908

کشمیریوں کو نئی شناخت مل گئی

ملٹن کینز (توقیر لون) برطانیہ کے محکمہ برائے قومی شماریات (او این ایس) نے مردم شماری 2021کے ڈیٹا سیٹس میں ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی جداگانہ شناخت بطور کشمیری نسلی گروپ اور مردم شماری ڈیٹا میں شمولیت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ برٹش کشمیری آئیڈنٹیٹی کمپین کے سپوکس پرسن سردار آفتاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں کشمیری شناخت کا تسلیم کیا جانااور مردم شماری میں اندراج کشمیریوں کی بہت بڑی کامیابی ہے جو کہ برطانیہ میں مقیم دونوں اطراف کے کشمیریوں کی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم کامیابی پر وہ پوری کشمیری کمیونٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے برٹش کشمیری کمپین کمیٹی کے ممبر ارکان ڈاکٹر سرینا حسین، رانا شمع نزیر، ڈاکٹر شاہین شورہ، پروین خان، کونسلر علی عدالت، شمس رحمان ، کونسلر ذوالفقار، عابد ہاشمی، انور ایوب راجہ ،عدیل خان، شفق حسین، لطیف حسین ، ادریس کھانڈے، نثار ولایت، اشفاق احمد، ڈاکٹر کرامت اقبال و دیگر کے علاؤہ والینٹیئرز میں ڈاکٹر آمنہ بچہ، خواجہ کبیر، واحد کاشر ارشاد ملک، غلام طارق سرور ، ڈاکٹر نذیر گیلانی، ڈاکٹر سبور اور دیگر کا تہہ دل سے شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ جن کی کاوشوں کی بدولت ہمیں اپنی کمپین میں کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہر 10سال کے بعد مردم شماری ہوتی ہے اور اس بار یہ 21مارچ2021 کو ہوئی جس میں برطانیہ میں پہلی بار کشمیری شناخت کے اندراج سے جہاں 19ویں صدی سے لے کر آج تک ریاست جموں کشمیر کے مختلف خطوں سے آ کر یہاں آباد ہونے والے 10 لاکھ سے زیادہ برطانوی شہریوں، آبادکاروں اور ان کی موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کو نئی شناخت ملی ہے وہاں انھیں اپنے کلچر اورمثبت روایات کا تحفط ملنے کے ساتھ ساتھ نسلی برابری کے قانون کے تحت کشمیری کمیونٹی کو سماجی انصاف اور مساویانہ حقوق حاصل ہوں گے اور مزید یہ کہ وہ اب اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جموں کشمیر میں اپنی وراثتی پراپرٹی اور کاروبار پر اپنے حق ملکیت کا تحفظ ،اپنے خاندانی تعلقات اور رسم ورواج کے تحت خوشی اور غمی کے موقع پر فیملی ری یونین کے لیے ویزوں کے حصول اور کشمیری کمیونٹی کی مخصوص مذہبی، ثقافتی اور ہیلتھ و سوشل کیئر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے بعد ورک ویزوں کے اجرأ کے لیے بننے والی نئی پالیسیوں میں کوٹے میں برابری کا حصے لینے کے لیے مردم شماری کے ڈیٹا کو بطور ثبوت استعمال کر سکیں گے ۔ مردم شماری میں برطانوی کشمیریوں کی جداگانہ شناخت سے انہیں اپنے قومی اور ریاستی تشخص کی بحالی کے لیے پر امن سیاسی، سماجی اور سفارتی جدوجہد میں شرکت اور بحیثیت کشمیری عوامی سفارت کار کے برطانیہ اور یورپ میں راے، عامہ ہموار کرنے اوربین الاقوامی سطح پر اپنی قوم کا مقدمہ خود لڑنے اور مستقبل میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جموں کشمیر کے مستقبل کے فیصلہ کے لیے ہونے والی رائے شماری میں برطانیہ میں رہتے ہوے رائے دہی (ووٹ) کا ان کا پیدائشی حق بھی محفوظ رہے گا، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ میں پیدا ہونے اور مستقل رہائش پزیر تمام ریاستی باشندے اپنے بچوں کے پیدائشی (برتھ ) سرٹیفکیٹ ، ڈرا ئیونگ لائسنس اور پاسپورٹ بنواتے وقت اپنی یا اپنے والدین کی جائے پیدائش جموں کشمیر یا پھر مقام و ضلع پیدائش مثلاً میرپور، پونچھ، جموں، سرینگر، بارہ مولا، لداخ، بلتستان یا گلگت لکھیں۔ انھوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کا ڈیٹا ایک ایسی مستند دستاویز ہوتی ہے جس کی بنیاد پر برطانوی حکومت اور مقامی کونسلیں مختلف علاقوں کے لیے آبادی کے تناسب کی بنیاد پر بجٹ مختص کرتی ہیں اور اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کس علاقے اور کس کمیونٹی کے لیے کون سی سہولتیں ضروری ہیں، خصوصاً جب کسی کمیونٹی سروس کے لیے پالیسی سازی کی جاتی ہے یا پھر اس کے لیے بجٹ مختص یا اس میں کٹوتی کی جاتی ہے تو پھرمردم شماری کے ڈیٹا اور اس سروس کو استعمال کرنے والوں یا ضرورت مندوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ وہ سروس یا سہولت فراہم کی جائے یا کہ نہیں اور اگر مردم شماری کے ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئے کہ اس فیصلے کے کشمیری یا کسی بھی اور نسلی اقلیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے تو پھر حکومت اور مقامی کونسلیں قانون مساوات 2010کے تحت اس بات کی پابند ہیں کہ وہ کشمیری کمیونٹی کے افراد کو ان منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں یا اگر کسی شہر اورعلاقے میں کشمیری کمیونٹی کے افراد کے تعداد زیادہ ہے تو ان کی ضرورت کے مطابق سروسز فراہم کی جائیں، ان کا کہنا تھا کہ کشمیری شناخت کے اندراج نہ ہونے کے باعث برطانیہ میں کشمیری کمیونٹی کی مساویانہ ترقی میں کئی رکاوٹیں حائل رہی ہیں اور ان علاقوں میں جہاں وہ زیادہ تعداد میں آباد ہیں انہیں صحت، تعلیم ،ملازمیتوں اور کاروبارکی ترقی لیے کم حکومتی امداد ملتی رہی۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں 10لاکھ سے زیادہ ریاست جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں لیکن حکومتی ادارے یہ نہیں جانتے کیونکہ گزشتہ مردم شماری 2011کے مطابق ہماری تعداد صرف 25ہزار 335تھی۔ کیونکہ ہم میں سے اکثر مردم شماری اور دیگر ایکویلٹی ڈیٹا کے فارم بھرتے وقت اپنی درست کمیونٹی شناخت کشمیری نہیں لکھتے تھے، ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری شناخت کے اندراج کے بعد اب کشمیر کمیونٹی بھی دیگر قومیتوں کے برابر مساویانہ بنیادوں پر ترقی کرسکے گی اور ہماری قومی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ ہوگا۔ مردم شماری میں کشمیری شناخت کی بنیاد پر حکومت اور مقامی کونسلز ہماری ضرورتوں کا حقیقی اعداد وشمار کی بنیاد پر تجزیہ اورتعین کر کے ہماری کمیونٹی کے ہر فرد کی ترقی کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گی، آخر میں انھوں نے کشمیری ڈائسپورہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ ان کے بہت شکر گزار ہیں کہ انھوں نے 2021 کی مردم شماری میں فعال شرکت کی اور اپنی قومی ، نسلی اور ثقافتی شناخت کی درستگی کرتے ہوئے اسے کشمیری لکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں