934

برطانوی یونیورسٹیز میں طلبا کا داخلہ

لندن ( پی اے ) یو سی اے ایس کے نئے اعداد و شمار کے مطابق انٹرنیشنل طلبہ کی جانب سے برطانیہ کی یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے پانچ برسوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو گا۔ 116ملکوں کے 1200طلبہ جو بین الاقومی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں سے ایک سروے میں ان اہم وجوہ کے بارے میں پوچھا گیا جیسا کہ این ایچ ایس کی عالمی تعریف اور انگلش زیان کو برطانیہ کی یونیورسٹیز میں داخلوں پر غور کیلئے اہم گردانتے ہیں۔ یو سی اے ایس نے پیش گوئی کی کہ انٹرنیشنل انڈرگریجویٹ درخواست دہندگان کا حجم 2026 تک 46فیصد بڑھ کر 208500ہو جائے گا یو سی اے ایس (یوکاس) اینڈ کالج بورڈ کی نئی رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ کورونا وائرس کوویڈ 19پینڈامک کے دوران 88فیصد طلبہ نے برطانیہ کو تعلیم کے حوالے سے ایک مثبت یا بہت زیادہ مثبت ملک کے طور پر دیکھا ہے جبکہ 77فیصد کا کہنا ہے کہ اس ملک کی مستحکم اکیڈمک ساکھ کی وجہ سے وہاں داخلوں کیلئے اپلائی کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے برطانیہ میں حصول علم کیلئے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ نائیجریا سے تعلق رکھنے والے 80 فیصد طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے سکلز حاصل کرنے کے خواہاں ہیں جو ان کے بہتر کیریئر میں مددگار ثابت ہوں جبکہ 75فیصد بھارتی طلبہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ان کے داخلوں کیلئے فیصلہ کرنے کی بڑی اہم وجہ اندرون ملک کے مقابلے میں بیرون ملک پائی جانے والی بہتر معیاری یونیورسٹیز ہیں ۔ پانچ گنا زیادہ طلبہ میں اپنے آبائی ملک کے مقابلے میں نئی منزل والے ملک میں جابس حاصل کرنے کی اولین ترجیح کے امکانات پائے گئے ۔ انٹرنیشنل طلبہ زیادہ خود مختار پائے گئے ان میں سے 50فیصد سے زیادہ کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی ریسرچ نے انہیں آگاہ گیا کہ وہ ااپنی پسند کے ملک کا تعلیم کیلئے انتخاب کریں جبکہ ایک فیصد طلبہ نے اس سلسلے میں اپنے اساتذہ کا حوالہ دیا ۔ یو سی اے ایس کے سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ دوتہائی سے زائد یعنی 69 فیصد انٹرنیشنل طلبہ سیلف فنڈنگ پر انحصار کرتے ہوئے برطانیہ میں داخلوں کیلئے اپلائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے مقابلے میں ڈومیسٹک طلبہ میں یہ تناسب صرف چار فیصد ہے۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ اپنے مضمون کے انتخاب کے حوالے سے اپنی چوائس کے مطابق یونیورسٹی میں تعیلم حاصل کرنے کو ترجیح دینے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں ۔ برطانیہ میں ہائی ٹیرف یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے اپلائی کرنے والے انٹرنیشنل طلبہ کا تناسب 55فیصد جبکہ برطانوی طلبہ کا تناسب 27 فیصد ہے سنگا پور چین اور ملائشیا میں جگہیں حاصل کرنے والے 70فیصد سے زائد طلبہ برطانیہ کی ہائی ٹیرف یونیورسٹیز میں داخل ہوئے۔ 2021میں نصف سے زائد انٹرنیشنل طلبہ کو یو سی اے ایس کے ذریعے برطانیہ میں تعلیم کیلئے قبول کیا گیا تھا جو چین ‘بھارت ‘ہانگ کانگ ‘ملائشیا‘ پرتگال‘ امریکہ اور آئرلینڈ سے آئے تھے ۔ ہر نو میں سے دو طلبہ چین سے آئے تھے۔ حالیہ برسوں میں برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے نائیجیریا ‘ پاکستان اور سعودی عرب سے بھی دراخواستوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یو سی اے ایس چیف ایگزیکٹیو کلیری مرچنٹ نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کسی دوسرے ملک میں رہنے اور تعیلم حاصل کعرنے کیلئے غیر معمولی لچک اور انحصار کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کوویڈ 19پینڈامک کے چیلنجز کے باوجود انٹرنیشنل سٹوڈنٹس نے اپنے لیے دستیاب مواقعوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان کا تعاقب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ اگلی دہائی میں برطانیہ میؒں یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کی دل چسپی میں مزید اضافہ ہو گا۔ کالج بورڈ کے ساتھ ہماری جوائنٹ ریسرچ کے نتائج میں ہمارا فوکس انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کا مائنڈ سیٹ اور اعلیٰ تعلیمی تجریات سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کی کراس بارڈر سپورٹ اور ان کو ماثر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ گلوبل ایجوکیشن کمیونٹی کو درخواست دہندگان کے تجربات کو ذاتی بنانا چاہیے اور غیرمعمولی و شاندار مواقع آفر کرنے کیلئے مخصوص ملکوں کے بارے میں مفید اور متعلقہ معلومات شیئر کرنی چاہیں ۔ کالج بورڈ وائش پریذیڈنٹ آف انٹرنیشنل لینڈا لیو نے کہا کہ جیسا کہ ہم دنیا کے دوبارہ کھلنے کے راستے پر ہیں اس سروے کے نتائج بہت سارے طلبہ کی دوسرے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کالج بورڈ کے اپنے پروگراموں میں اس خواہش کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے۔ بہت سے طلبہ جو اپنے SAT سکور اپنے ملک سے باہر یونیورسٹیز کو بھیجنا چاہتے ہیں اور ریکارڈ تعداد میں طلبہ امریکہ سے باہر اے پی (ایڈوانسڈ پلیسمنٹ) ایگزامز دے رہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں