81

ڈاکٹرز حضرات پر قتل کا مقدمہ بھی درج ہو گا

مظفرآباد(عدالت نیوز)وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں میزانیہ 2022-23اور نظر ثانی میزانیہ 2021-22پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے اپنے تاریخی اور طویل ترین خطاب میں 100سے زائد اعلانات کرتے ہوئے زندگی کے ہرشعبہ میں بہتری اور تبدیلی لانے کے حوالے سے اپنے ویژن کی حقیقی معنوں میں عکاسی کی۔وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز درود وسلام سے کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کسی جگہ یہ نہیں کہا کہ میں نماز پڑھتا ہوں اس لیے آپ بھی نماز پڑھیں،میں زکوة دیتا ہوں آپ بھی زکوة دیں،واحد درود سلام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فریایا کہ آخری نبی زمان خاتم النبینﷺ پر درود سلام بھیجیں اس لیے کہ میں بھی اپنے محبوب پر سلام بھیجتا ہوں۔۔وزیراعظم نے کہا کہ محکمہ صحت عامہ میں ڈاکٹرز ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں جو ہر تیسرے روز ہڑتال پر چلے جاتے ہیں ان کا قبلہ درست کرنا ضروری ہے آئندہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے دوران کسی مریض کی موت واقع ہوئی تو ڈاکٹر کے خلاف نہ صرف قتل کا مقدمہ درج ہوگا بلکہ دہشتگردی کا مقدمہ بھی درج ہوگا۔سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے عملہ کی حالت بہتر بنانے کے لی ہماری ترجیح ہے،وزیراعظم نے سائیں سہیلی سرکار کمپلیکس کی شایان شان تعمیر سمیت مجاہد اول کے مزار ور دیگر کشمیری اکابرین کے مزارات سرکاری سرپرستی میں تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ریاست کی آزادی اور تحریک آزادی کے لیے بھررپور کردار ادا کرنے پر مجاہداول اور ان کے خاندان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اکابرین کی زندگیوں پر نہ صرف مقالہ جات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی بلکہ ریسرچ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے حکومت اس سلسلہ میں وسائل فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے مختلف شعبوں کے لیے خصوصی اعلان کرتے ہوئے ایسی مساجد جہاں نماز پنجگانہ ادا کی جاتی ہو وہاں بجلی مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے مفتی صاحبان کی خالی اسامیوں پر فوری تعیناتیوں وار ڈاور ڈویژنل سطح پر ڈائریکٹر یٹ قائم کرنے سمیت تجویر القرآن ٹرسٹ کے زیر انتظام دینی مدارس کی کفالت اور زیر تعلیم طلبہ کے لیے تین ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کا بھی اعلان کیا۔وزیراعظم نے تجوید القرآن ٹرسٹ کے زیر انتظام تینوں ڈویژنل ہیڈ کورٹرز رمیں قرآن ٹرسٹ اکیڈمیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔وزیراعظم نے اپنی بجٹ تقریر میں مہاجرین 89کی آباد کاری کے لیے باقاعدہ گھروں کی تعمیر اور کمپلیکس نما رہائش گاہوں کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔وزیراعظم کے مطابق مہاجرین کے لیے 1303گھر تعمیر کیے جائیں گے،10 ارب کی لاگت آگئے گی،یہ وفاقی منصوبہ ہے جس کے لیے3ارب جاری کیے جاچکے ہیں۔مظفرآباد مانسہر موٹر وسے کا منصوبہ بھی تحریک انصاف کی حکومت نے دیا تھا جس کے لیے فنڈز بھی دیئے گئے تھے جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں مسحقین یتامیٰ اور بیوگان کی مدد کے لیے این جی او کورٹ کے سربراہ چوہدری اختر کے ساتھ مل کر 900مزید گھر بنائیں گے جن کی تعمیر میں تارکین وطن سے بھی مدد لیں گے اور یہ گھر ماڈل گھر ہوں گے جو اپارٹمنٹ کی شکل میں تعمیر کر کے مسحقین میں تقسیم کیے جائیں گے۔ہماری ترجیح پاک فوج کے شہداءکے ورثاءاور محکمہ پولیس کے مستحق ملازمین کے لیے ہے۔پولیس کے ملازمین کے لیے نصف اور نصف پاک فوج کے شہداءکے لیے وقف کریں گے۔اس پراجیکٹ کی نگرانی کے لیے باضابطہ بورڈ قائم کیا جائے گا جو الاٹ منٹ کے فیصلے کرے گا۔شہروں کی آبادی بڑھ رہی ہے ہمیں تمام شہروں کی از سر نو ٹا¶ن پلاننگ کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے آزادکشمیر میں فنی تعلیم اور سمال انڈسٹریز کے تحت کارٹیج انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے مقامی افراد کو پنجاب کے اداروں میں تربیت کے اہتمام کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ تربیت کے لیے جانے والوں و طعام قیام کے لیے اعزایہ ملے گا جس کا اہتمام حکومت آزادکشمیر کرے گی۔مہاجرین کی آباد کاری کے لیے مخیر حضرات سے بھی تعاون حاصل کریں گے۔شاہرات اور پی پی ایچ کے محکمہ جات کے اندر تمام کام بلڈنگ کوڈز کا نفاذ اور کوالٹی انشورنس یقینی بنانے کے لیے دنوں محکموں کے اندرد و ماہ کے اندر تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کنسٹریکشن کی طاقت اور درجہ حرارت کے مطابق تعمیرات یہ الگ سائنس ہے جس کا ہمارے ہا کوئی راج نہیں یہاں پرانے ٹینڈر کا طریقہ کار چل رہا ہے کوالیفائیڈ اور دور جدید کے تقاضوں سے واقف انجینئرز کو بلاوجہ دبا کر رکھا جاہے اور اور کوئی اپنا ٹیلنٹ ظاہر کرے تو اسے دور دراز تعیناتی کا خوف مار دیتا ہے۔دنیا تعمیرات کے شعبہ میں جدید ٹیلناجوکے استعمال کے ذریعے بہت آگے نکل چکی ہے مگر ہم ابھی تک پرانے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں جو قومیں حالات کے مطابق نہیں ڈھالتی وہ ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔یہاں پراجیکٹ مینجمنٹ کے بارے میں تصور ہی کچھ مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو ترقیاتی بجٹ ہے و ہوعوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے اس پیسے کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔آج تعمیرایت شعبہ میں مہنگائی سریا،سیمنٹ کی قیمت بڑھ چکی ہے،استعمال ہونے والی لکڑی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں،قدرتی چشموں کا پانی آلودہ ہورہا ہے ماہرین نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔انہوں نے کہا قومی خزانے سے تنخواہ وصول کرنے لیے ملازمین اپنے گریبان میں جھانکیں کہ قوم کے لیے کیا ہے تو بہتری رونم اہوسکتا ہے۔یہاں سیاست کا ہر ایک کو شوق ہے دفاترمیں بیٹھ کر سیاست کی جاتی ہے،اخلاق اقدار زوال پذیر ہے،یہاں نماز کی آڑ میں دو دو گھنٹے کام چوری کی جاتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اختیار ملنے پر اس کا استعمال کرنے سے حقیقت اور اصلیت کا پتا چلتا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اب آزادکشمیر میں کوئی تعمیر چاہے دیہات ہو یا شہر بلڈنگ کوڈز اور نقشہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہوگی اور اگر کسی جگہ تعمیر ہوتی پائی گئی تو اس علاقے کا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ذمہ دار ہوں گے۔دو ماہ کے اندر تمام آزادکشمیر میں تعمیراتی کوڈ کا نفاذ عمل میں لایا جارہ اہے،ٹا¶ں پلاننگ کے بغیرتعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔دیہاتوں میں باقاعدہ نقشہ کوالیفائیڈ انجینئرز سے بنوا کر مجاز اتھارٹی سے منظور کروانا پڑے گا جس کے لیے پانچ روپے فی مکعب فٹ فیس رکھی گئی ہے جبکہ دیہی علاقوں کمرشل تعمیر کی فیس سات روپے فی مکعب فٹ ہے۔شہروں میں مکان کے نقشہ کی فیس دس روپے اور کمرشل فیس پندرہ روپے ہوگی۔وزیراعظم نے آزادکشمیر میں نمبرداری نظام بحال کرنے اور مالیہ کے نفاذ کا بھی اعلان کیا جس کی شرح ایک ماہ کے اندر طے کردی جائے گی۔وزیراعظم نے آزادکشمیر میں مسائل کی مقامی سطح پر معاشرتی مسائل اور امن وامان کے قیام کے لیے پنچائیتی نظام کی بحالی کا بھی اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قانون ریاست کے ہر فرد پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں خلاقیات زوال پذیر ہیں،معاشرتی اصولوں کے عین مطابق بعض معاملات کی ضرور ت ہے انہوں نے کہا کہ یوگنڈا نے چالیس سال پہلے ٹریفک پولیس ختم کردی تھی اور لوگوں کو چھوڑ دیا تھا کہ کس نے دائیں مڑنا ہے کس نے بائیں کس نے پہلے اور کس نے بعد می جانا ہے یہ فیصلہ لوگ خود کریں ہمارے ہاں بڑے عہدوں پر رعب ڈال کر ٹریفک کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہر چیز ٹھیک نہیں کرسکتی کچھ چیزیں اخلاقی رویوں سے وابستہ ہیں جو ہر فرد کی ذات سے جڑی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہاں زراعت کا شعبہ روبذوال ہے ہم ایک نیا تصور دے رہے ہیں ہر ضلع میں زراعت کی توسیع وترقی کے لیے ایک انچارج نامزد کررہے ہیں جس کا تعلق کمیونٹی سے ہوگا۔ہمارے علاقے میں زعفران کی کاشت ممکن ہے بلکہ ہر فصل اس علاقے میں ہوستی ہے مگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔وزیراعظم نے چیئرمین کورٹ چوہدری اختر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میرپور میں جدید طرز کا اسپتال قائم کرنے کا اعلان کیا جس کے لیے زمین آزادکشمیر حکومت فراہم کرے گی اس اسپتال کی برانچیں 8اضلاع میں قائم کی جائیں گی۔اسپتال کی تعمیر میں اوور سیز سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر امور کشمیر قمرالزمان کائرہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مہاجرین کے گزاہ الا¶نس میں اضافے کی تجوزی کو قبول کیا۔مہاجرین مستحقین زکوة کے لیے ماہانہ تین ہزار اعزازیہ کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے جہیز فنڈ کی حد بھی 75ہزار روپے تک بڑھادی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال میٹرک تک تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کریں گے اور پرائمری تعلیم کی طرح میٹرک تک کتابیں اور سٹینشری مہیا نکرنے کااہتمام کریں گے۔ایم ٹی بی سی کے زیر اہتما مظفرآباد اورمیرپور میں دو آئی ٹی سنٹر کا قیام عمل میں لایا جارہ اہے،ایم ٹی بی سی کے سربراہ محمود احمد نے فنڈز کی فراہمی سے اتفاق کیا ہے۔وزیراعظم نے انکشاف کیا ہے کہ ایم ٹی بی سی کے سربراہ محمود احمد کو ائیر سروس کے آغاز کے لیے این او سی مل چکا ہے اور توقع ہے کہ اس ائیر سروس کا آغاز آزادکشمیر میں بھی ہوگا اگر کوئی اور بھی اس شعبہ میں سرمایہ کار چاہتا ہے تو اسے بھی اسئیر ویز کے لیے مجودہ سہولت دستیاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر ہر صورت بدلے گا کیونکہ ٹورازم کی طرف لوگوں کا بہت رجحان ہے ٹورازم پالیسی پر نظر ثانی کر کے اسے منظور کرنے کی کوشش کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ میں بیس سے تیس ارب روپے کی انوسٹمنٹ ان کے ایک اشارے پر ممکن ہے۔آزادکشمیر کی بدقسمتی ہے کہ تیس سال پہلے انوسٹمنٹ بورڈ کا ایک محکمہ …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں