46

پاکستانی نوجوان برطانیہ میں قتل

بری (نمائندہ ) بری ٹاؤن سنٹر میں ایک نوجوان کو چھری کے وار کر کے ہلاک کرنے والے ملزم کا کیس منشل سٹریٹ کراؤن کورٹ مانچسٹر میں پیش کیا گیا۔ واقعات کے مطابق اٹھارہ سالہ مقتول عبدالکریم عبداللہ احمد اورملزم کا جھگڑا ہوگیا، جس میں مبینہ طور پر مقتول عبدالکریم عبداللہ احمد نے ملزم کو زدوکوب کیا ، تاہم اس واقعہ کے آدھے گھنٹے بعد مقتول اور اس کے بھائی کا آمنا سامنا مل گیٹ شاپنگ سنٹر کے باہر ملزم اور اس کے دوستوں کے گروپ کے ساتھ ہوا-مبینہ طور پر مقتول نے اس موقع پر ملزم کو مکا مارا، جواب میں ملزم جس کا نام قانونی وجوہا ت کی بنا پر خفیہ رکھا گیا ہے نے مقتول کی چھاتی میں چھرا گھونپ دیا ۔ مقتول نے جان بچانے کےلئے قریبی سکائی بار میں پناہ لی – تاہم وہ پھیپھڑے میں چھری لگنے کے باعث زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا اور تھوڑی دیر بعد ہسپتال میں اس کی موت واقع ہو گئی تاہم ملزم نے قتل کے ارتکاب سے انکار کیا،چار مردوں اور آٹھ عورتوں پر مشتمل جیوری کی رہنمائی کرتے ہوئے استغاثہ کی طرف سے آلارک بیسانو نے بتایا کہ ملزم یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کیا ہے – تاہم جس چاقو سے ملزم نے حملہ کیا اس کی پاس ایک دس سینٹی میٹر بلیڈ والا ایسا چاقو تھا جو فولڈ کیا جا سکتا ہے- استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ ملزم جس کی کیس کے اندراج کے وقت عمر سولہ سال تھی ’کے پاس اس وقت ایک چاقو تھا جس کے استعمال کےلئے اسے یہ علم بھی تھا کہ اس چاقو کو کیسے کھولا اور ان لاک کیا جاتا ہے جس کے ساتھ اس نے سکس فارم کالج کے طالبعلم عبدالکریم پر وار کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اوربعد میں چل بسا-عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی کیمرہ کے مطابق سترہ سالہ ملزم واقعہ سے پہلے کولوراڈو چکن شاپ کے باہر کس طرح جھگڑ رہا ہے جس میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں -جس کے کچھ ہی دیر کے بعد وہ تین بج کر اکیس منٹ پر پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے منہ پر گھونسا مارا – مقتول عبدالکریم نے اپنے بڑے بھائی فیصل احمد کو واقعہ بتایا۔جس کے بعد دونوں بھائی گروپ کو تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے جو انہیں مل گیٹ سنٹر میں تقریباً تین بج کر اڑتالیس منٹ پر مل گئے۔ فیصل نے بعد میں پولیس کا بتایا کہ اس کے بھائی نے گروپ کے ان لڑکوں کو مارنے کی کوشش کی جن کے ساتھ اس کا جھگڑا ہوا تھا -بیسانو نے مزید کہا کہ کراؤن پراسیکیوشن نے یہ قبول کر لیا ہے کہ مقتول نے ملزم پر غیرقانونی حملہ کیا اور اسے مکا بھی مارا تھا ۔تاہم مقتول کے خلاف ملزم کا ایکشن بہت زیادہ تھا کہ اس نے چاقو کا وار کر دیا -ملزم کا یہ اقدام بھی غیر قانونی ہے-فیصل اور کائی ملر جو بری ٹاؤن سنٹر میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ شاپنگ کر رہا تھا نے دیکھا کہ عبدالکریم کو چھاتی میں چھرا گھونپا گیا ہے۔ جس سے مقتول کی چھاتی سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا جبکہ چاقو کے وار نے اس کے جسم کے اندر کے حصے کو بھی نقصان پہنچایا- زخم دس سینٹی میٹر گہرا تھا اور اس حملے سے مقتول کا پھیپھڑا بھی متاثر ہو اجبکہ اس کی پسلیوں کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی -ملزم حملے کے بعد سکائی بار میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر گیا – عبدالکریم کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پانچ بج کر انتالیس منٹ پر چل بسا -عدالت کو بتایاگیا کہ ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موقع سے فرار ہو گیا اور اس نے خون آلود چاقوٹتھبارن سٹریٹ میں کوڑے کی ایک بن میں پھینک دیا -جس کے بعدملزم اپنے ساتھیوں سمیت ہرسٹ سٹریٹ میں ایک ٹیکسی میں سوار ہوکر گارسٹنگ ایونیو کی طرف چلا گیا جہاں اس نے بیک بری روڈ میں اپنا ٹریک سوٹ اور دوسرا لباس اتارکر ایک بن میں پھینک دیا – ملزم کوآدھی رات کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا لیکن اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ سب کچھ سیلف ڈیفنس میں کیا ہے کیونکہ مقتول کی ٹوپی میں ایک چاقو تھا جس سے وہ مقتول پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا -جو کچھ ہوا میں اس پر یقین نہیں کر سکتا – میں یہ یقین نہیں کر سکتا تھا کہ عبدل مر چکا ہے -مجھے اس کا بہت دکھ ہے اور میں جانتا ہوں کہ اب یہ جرم عمر بھر میرے ساتھ رہے گا-تاہم مسٹر بسانو نے کورٹ کو بتایا کہ ملزم کا یہ الزام کے مقتول نے ٹوپی میں چاقو چھپا رکھا تھا جھوٹا ہے، سی سی ٹی وی سے اس کے شواہد نہیں ملے – انہوں نے مزید کہا کہ واردات میں جو چاقو استعمال ہوا ہے اس کا میکنزم بہت پیچیدہ ہے جسے سیکھنے کے لئے بھی وقت درکار ہے – دوسری طرف ملزم کو وقوعہ کے دو دن قبل چاقو کے جرائم میں وارننگ اور سزائیں ہو چکی ہیں جبکہ ملزم نے ایک دوست کو چاقو کے استعمال کے حوالے سے ایک ٹیکسٹ بھی کیا تھا – انہوں نے جیوری کو بتایا کہ کیس کے شواہد میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزم کے پاس ایک خطرناک چاقو تھا جسے استعمال کرنا بھی مشکل ہے لیکن ملزم اس کی تکنیک کے بارے مکمل طور پر آگاہ تھا اور وہ یہ خطرناک چاقو لے کر پبلک میں پھر رہا تھاجسے وہ جب چاہے استعمال کر سکتا تھا -مقتول کی طرف سے ملزم کومکا مارنے کا واقعہ گو مقتول کی حق میں نہیں جاتا لیکن یہ ملزم کے لئے دفاع کے طور پر بھی استعمال نہیں ہو سکتا – ملزم کا اقدام جھگڑے کے لئے بہت زیادہ تھا جبکہ یہ غیر قانونی ہے جس پر اسے گلٹی قرار دیا جانا ضروری ہے۔ کیس کی سماعت ابھی جاری ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں