4,272

میرپوریونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی کے وائس چانسلرکی گرفت کمزور

میرپور(ظفرمغل سے)میرپوریونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی کے وائس چانسلرکی گرفت کمزور، فیکلٹیز کے مختلف ڈیپارٹمنٹس میں تعینات” سیانوں “ نے MUST کوRUSTبنانے کی کوششیں تیزکردیں، انرولمنٹ میں واضح کمی۔الحاق شدہ کالجزمیں رش بڑھنے لگا،آئین میںدرج بنیادی حقوق کی دھجیاں بکھیرے جانے پروکلاءحلقے اورمحکمہ وقانون وانصاف بھی خاموش تماشائی بن بیٹھے۔طلبہ ووالدین یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے زائدفیسوں کی وصولی اوردوہرے معیارپرسخت پریشان۔صدرریاست/چانسلر بیرسٹرسلطان محمودچودھری سے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے اورپرائیویٹ کالجز کیلئے HIDDEN POCKETSکابندوبست کرنے اورمسٹ یونیورسٹی کوپی آئی اے کی طرح خزانے پربوجھ بنانے کیلئے کام کرنیوالوں کوبے نقاب کرکے اصلاح احوال کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق کروناوباءکے آغازسے ابتک جہاں تدریسی عمل متاثرہوکرتعطل کاشکارہے وہاں میرپوریونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی(MUST)سمیت آزادکشمیرکی دیگریونیورسٹیوں میں بھی تدریسی عمل شدیدمتاثرہواہے،مسٹ کے دائرہ کارمیں گورنمنٹ اورپرائیویٹ کالجز HEC(ہائیرایجوکیشن کمیشن) کی پالیسی کے مطابق الحاق شدہ ہیں جن میں مختلفBSاورADPsکی کلاسز کی تدریس ہورہی ہے کروناوباءباعث تدریسی عمل میں تعلیمی انحطاط/تنزلی اپنی جگہ لیکن عملی میدان میں طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے مسٹ کے وائس چانسلرکی ڈھیلی گرفت کے نتیجہ میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے ڈین نے ملی بھگت سے دوہرے تعلیمی معیارکواپناکرآئین میں درج انسانی حقوق کی پامالی شروع کررکھی ہے جس سے طلبہ وطالبات اوران کے والدین بھی پریشان حال ہیںطلبہ وطالبات کے نمائندوں اوروالدین نے تحقیقات کے دوران انکشاف کیاہے کہ مسٹ کی انتظامیہ نے BSکے مختلف پروگراموں کے امتحانات کاجوطریقہ کاراپنایاہے وہ نہ صرف بنیادی حقوق کی پامالی ہے بلکہ الحاق شدہ پرائیویٹ اورگورنمنٹ کالجز کے درمیان طلبہ وطالبات کی حوصلہ شکنی ،دل آزاری اورنفرت جیسے رویوں کوجنم دے رہاہے جس کی واضح مثال مسٹ انتظامیہ نے حالیہ منعقدہ امتحانات میں فال سمسٹر2021کے فائنل امتحانات میں جوسمسٹر کے تحت BSاورADPsبرائے الحاق شدہ کالجزکیلئے بروئے سرکلرنمبری318-CE-2022 مورخہ23-03-2022کے تحت امتحانات کے انعقاد کی تاریخ 11اپریل 2022کااعلان کیاجبکہ ڈین فیکلٹیز کی ایک میٹنگ منعقدہ 22مارچ2022(کانفرنس روم الیکٹریکل انجینئرنگ ہال)میں فیصلہ کیاگیاکہ انڈرگریجویٹ پروگرام کے فائنل امتحانات28مارچ2022سے شروع ہونگے اسی طرح پوسٹ گریجویٹ پروگرام کاآغاز سمسٹرفال 2021کے امتحانات کاآغاز اپریل2022سے ہوگا اس طرح مسٹ انتظامیہ نے فال سمسٹر2021کے امتحانات کے امتحانی پرچہ جات وامتحانی شیڈول وشیڈول نتائج الگ الگ جاری کیااورالگ الگ پرچہ جات مرتب کرکے الگ الگ تواریخ پرامتحان کاانعقاد کرکے نہ صرف انسانی حقوق کوپامال کیاگیابلکہ دوہرامعیاراختیارکرکے اپنے ذاتی ایجنڈے کوپروان چڑھاتے ہوئے یونیورسٹی خزانے کونقصان پہنچانے کیساتھ ساتھ اقرباءپروری کرتے ہوئے مسٹ کودیوالیہ کی طرف دھکیلنے کی سازش کی جس سے طلبہ وطالبات اوروالدین الگ الگ سلیبس ،الگ امتحان ،الگ الگ شیڈول کے باعث الحاق شدہ کالجزکے طلبہ وطالبات کیساتھ سوتیلی ماںجیساسلوک روارکھ کرکھلواڑکیاگیاطلبہ وطالبات اوروالدین نے تحقیقاتی رپورٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے مو¿قف اپنایاکہ صدرریاست کوالگ الگ امتحانی پرچے ترتیب دلوانے پراٹھنے والے اخراجات ،پرنٹنگ ،امتحانی مراکزمیں مقررکئے گئے سٹاف کوادائیگیوں سمیت دیگرمدات پرخرچ ہونیوالی رقوم کاآڈٹ کرواناچاہیے تاکہ مسٹ یونیورسٹی کے اکاﺅنٹس کوپہنچائے گئے نقصانات کاتعین ہوسکے ۔آئین میں درج انسانی حقوق کی پامالی کانوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کاتعین کرکے انہیں تحت قانون وقواعد سزاوجزاکے عمل سے گزارناچاہیے تاکہ کوئی بھی آئندہ ذاتی مفادات کیلئے طلبہ وطالبات کے مستقبل سے کھلواڑنہ کرسکے۔طلبہ وطالبات ووالدین کاکہناہے کہ مسٹ یونیورسٹی میں انرولمنٹ کی بجائے الحاق شدہ کالجزمیں داخلوں کے بڑھتے تناسب کودیکھتے ہوئے چانسلرمسٹ /صدرریاست بیرسٹرسلطان کوخزانہ سرکارکوپہنچنے والے نقصانات کے ازالے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں