1,907

میرپورکی عدالت نے 46سالہ پرانے مقدمہ کافیصلہ

میرپور(ظفر مغل سے)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج میرپورکی عدالت نے 46سالہ پرانے مقدمہ کافیصلہ سناتے ہوئے ڈگری جاری کردی ۔مدعی مقدمہ نے 1976میں پلاٹ نمبر3-D واقع سیکٹرA/1بھڑکے میرپور کے حوالہ سے مقدمہ دائرکیاتھا۔مدعی  مقدمہ سال 2018میں وفات پاچکاہے۔مدعی مقدمہ چودھری عبدالرحمن کی بیوہ زینب بی بی اوربھانجاچودھری حق نواز(سابق مشیرحکومت پیپلزپارٹی) مذکورہ پلاٹ پرمسجدکاخواب پوراکرنے کیلئے کوشاں۔چودھری عبدالرحمن نے اپنی زندگی میں مسجدکی تعمیرکیلئے 50لاکھ روپے کی خطیررقم مختص کی تھی۔مسمی مذکورکی زندگی میںمسجدکی تعمیرتونہ ہوسکی البتہ اسکی وصیت کے مطابق اسی پلاٹ کے ایک کونے میںآخری آرامگاہ بن گئی۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج میرپورچودھری خالدحسین ثاقب نے 46سالہ پرانے مقدمہ ارشدعلی وغیرہ بنام زینب بی بی کافیصلہ سناتے ہوئے مدعی  مقدمہ کے ڈگری بھی جاری کردی ۔مدعی  مقدمہ چودھری عبدالرحمن کے آباﺅاجداد کے پرانی آبادی بھڑکے میں آباد تھے ،منگلاڈیم کی تعمیرکے بعد نیومیرپورشہرآباد ہونے کے نتیجہ میں سیکٹرA/1کانام دیکر1976میں الاٹمنٹ کی گئی جس پربعدازاں خادم حسین ،ارشدمحمود،عنصرمحموداورشوکت علی پسران نیک عالم وغیرہ نے ادارہ ترقیات میرپورکی ملی بھگت سے 20اگست 2020کواپنے پلاٹ سے ملحقہ رقبہ ظاہرکرتے ہوئے الاٹمنٹ کروالی تھی 1976سے لیکرماتحت عدلیہ سے اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک مختلف ادوارمیں مقدمہ مذکورزیرسماعت رہااس عرصہ کے دوران اس پرانے مقدمہ میں معروف وکلاءعبدالمجید ملک، محمدیونس سرکھوی ،چودھری محمدتاج اورمحمداعظم خان پیش ہوتے رہے جوبعدازاں ہائیکورٹ اورسپریم کورٹ کے ججزبھی تعینات ہوئے جبکہ یونس سرکھوی، عبدالمجید ملک اورمحمداعظم خان اعلیٰ عدلیہ میں چیف جسٹس بھی تعینات رہے لیکن سائل مذکورہ پلاٹ پرمسجدکی تعمیرکاخواب دل میں بسائے مورخہ29-01-2018داعی اجل کولبیک کہہ گیااوراس کی وصیت کے مطابق اسے مذکورہ پلاٹ کے ایک کونے میں دفن کردیاگیامقدمہ کی سماعت کے دوران عبدالرحمن ولدمحمداسماعیل (مدعی)نے مذکورہ پلاٹ پرمسجدکی تعمیرکیلئے اپنی بیگم زینب بی بی کے نام مسجدکی تعمیرکیلئے پچاس لاکھ روپے کی خطیررقم بینک میں اس کے اکاﺅنٹ میں جمع کروادی تاکہ فیصلہ ہونے پرمذکورہ پلاٹ پراہل محلہ بھڑکے کیلئے شایان شان مسجدتعمیرکی جاسکے عبدالرحمن کی وفات کے بعد اسکی بیوہ زینب بی بی اوربھانجے سابق مشیرحکومت چودھری حق نواز نے مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے بالآخرعبدالرحمن کی وفات کے 4سال 4ماہ بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت سے اپنے حق میں ڈگری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اس طرح مجموعی طورپراس مقدمہ میں 46سال بعد مستحقین کومسجدکی تعمیرکیلئے بالآخرڈگری مل ہی گئی ہے۔معروف قانون دان سابق سیکرٹری جنرل آزادجموں وکشمیرہائیکورٹ بارایسوسی ایشن واجدحسین مرزاایڈووکیٹ سپریم کورٹ  نے مو¿قف اپنایاتھاکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ مقدمہ روبکارعدالت بنام ڈپٹی کمشنر مورخہ24-02-2022کے مطابق تمام جائے سفیدہ مفادعامہ اورملحقہ الاٹمنٹس کی منسوخ کی گئی ہےں اس طرح ملحقہ الاٹمنٹ پردخلیابی کی ڈگری جاری کی جائے تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے وکیل مستغیث نے دعویٰ مدعی مستردکرنے کی استدعاکی تھی جسے عدالت نے پذیرائی بخشتے ہوئےمدعی مقدمہ کے حق میں فیصلہ دیکرڈگری جاری کردی ہے۔ڈگری کی اجرائیگی سے مسجدکی تعمیرکاخواب پوراہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔فریق مخالف کی جانب سے گوہرعلی شاہ ایڈووکیٹ نے مقدمہ کی پیروی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں