45

خلاف قانون وقواعدملی بھگت سے من پسندکمپنیوں کوٹھیکے دیئے جانے کاانکشاف

میرپور(ظفرمغل سے)آزادکشمیرکے محکمہ تعمیرات عامہ(پی ڈبلیوڈی)شاہرات میں خلاف قانون وقواعدملی بھگت سے من پسندکمپنیوں کوٹھیکے دیئے جانے کاانکشاف۔سیکرٹری پی اینڈڈی بنام سیون سٹارمقدمہ میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کئی سوالات اٹھ گئے۔سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کی جانب سے نئے اضافی ریٹس کے مطابق سیون سٹارکنسٹرکشن کمپنی کوادائیگی یقینی بنائے جانے کیلئے دائررٹ پٹیشن چیف جسٹس ہائیکورٹ کوفل کورٹ میں سماعت کرنے کیلئے واپس بھیج دی۔جبکہ سیکرٹری شاہرات کوہدایت کی گئی کہ وہ ایگزیکٹوانجینئرسے استفسارکریں کہ بدوں طلبی ہائیکورٹ ایگزیکٹوانجینئربھمبر نے عدالت میں بیان کیسے دیا؟اس مالی بے ضابطگی پرآنکھیں بندنہیں کرسکتے؟سیکشن آفیسرپی اینڈڈی نے اپنے دستخطوں سے ہائیکورٹ میں کیسے اورکس اختیارکے تحت جواب دعویٰ دیا؟چیف جسٹس راجہ سعیداکرم کے ریمارکس کے بعدنیاپنڈوراباکس کھل گیا۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیرکے محکمہ تعمیرات عامہ پی ڈبلیوڈی میں خلاف قانون وقواعداورملی بھگت سے من پسندکمپنیوں کوتعمیراتی کاموں کے ٹھیکے الاٹ کرنے کیخلاف شکایات زبان زدعام ہیں اورمحکمہ تعمیرات عامہ میں بعض قابض کرپٹ افسران نے ریاست کے اندراپنی ریاست قائم کررکھی ہے اس امرکی بازگشت گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میرپورسرکٹمیں فل کورٹ کی سماعت کے دوران مقدمہ عنوانی سیکرٹری پی اینڈ ڈی بنام سیون سٹارپرائیویٹ لمیٹڈ کی سماعت کے دوران سنائی دی اورچیف جسٹس مسٹرجسٹس راجہ محمدسعیداکرم نے ریمارکس دیئے کہ سیکشن آفیسرپی اینڈڈی فریق مقدمہ ہی نہ ہے اورسیکشن افسرنے ہی اپنی پھرتیاں دکھاتے ہوئے ہائیکورٹ میں جواب دعویٰ پیش کیاہے اورایگزیکٹوانجینئربھمبر طاہرمحمود نے بدوں طلبی ہائیکورٹ عدالت میں کیسے بیان دیاہے؟ اورہائیکورٹ نے جواب دعویٰ اوران بیانات کی بناء پرایک ماہ میں نئے اضافی ریٹس کے مطابق سیون سٹارکوادائیگی یقینی بنانے کافیصلہ دیدیاہے۔عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شکیل زمان نے ریکارڈکی روشنی میں عدالت کوبتایاکہ آزادکشمیرہائیکورٹ نے 17-12-2021کودائرہونے والے سیون سٹارکے اس مقدمہ میں سماعت20-01-2022شروع ہوئی جبکہ فیصلہ11-05-2022ہوا جسمیں ہائیکورٹ نے جاتلاں تابھمبر14کلومیٹرشاہراہ کی تعمیرکیلئے فیزون میں 9.863ملین روپے اورفیزٹو12.373ملین روپے کی اضافی ادائیگی ایک ماہ کے اندرکرنے کاحکم جاری کیاہے۔سڑک کے ابتدائی تخمینہ میں سڑک کی چوڑائی 18فٹ سے بڑھاکر24فٹ کی گئی ہے اوراس کاورک آرڈربھی جاری کیاگیاہے ایک موقع پرچیف جسٹس آزادجموں وکشمیرسپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ اپنے خلاف خوددلائل دے رہے ہیں اورحکومت نے جوسرکاری وکلاء کی فوج ظفرموج بھرتی کررکھی ہے وہ کہاں تھی جب یہ خلاف قانون وقواعداقدامات اٹھائے گئے انہوں نے مزیدریمارکس دیئے کہ آپ جنرل پریکٹس کی بات نہ کریں یہ سپریم کورٹ ہے یہاں صرف قانون کی بات ہی ہونی چاہیے۔جسٹس رضاعلی خان نے ریمارکس دیئے کہ پی اینڈڈی کے متعلقہ ذمہ داران کونوٹس ہی نہیں بھیجے گئے توپھرکیسے سیکشن افسراورایگزیکٹوانجینئربھمبر پربھروسہ کرکے فیصلہ کیاگیاہے۔چیف جسٹس راجہ سعیداکرم نے مزیدریمارکس دیئے کہ چیف انجینئر۔ایگزیکٹوانجینئراورسیکشن افسرنے ہی ساری تباہی کی ہے اسلئے یہ کیس چیف جسٹس ہائیکورٹ کوفل کورٹ سماعت کیلئے واپس بھیج رہے ہیں کیونکہ مالی بے ضابطگی کے اہم مقدمہ میں سیکشن افسرفریق ہی نہ ہے۔انہوں نے فیصلے میں مزیدہدایت کی کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ متعلقہ افسران کوطلب کرکے انہیں سماعت کریں۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے قانون کایہ اصول واضح کیاکہ معاہدات کی ذمہ داریوں سے متعلق یہ رٹ پٹیشن تحت قانون نہیں بنتی اسلئے ہائیکورٹ اس پہلوکوبھی مدنظررکھ کرآئندہ بعدازسماعت فیصلہ کرے۔ہائیکورٹ میں سیون سٹارکی طرف سے بابرعلی خان ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔سپریم کورٹ میں فل کورٹ چیف جسٹس راجہ سعیداکرم،جسٹس،جسٹس رضاعلی خان اورجسٹس خواجہ محمدنسیم پرمشتمل تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں