کیلے کھانے سے بچوں کی بینائی بچائی جاسکتی ہے ؛تحقیق

banana babies

لندن(یوا ین پی)کیلے میں پائے جانے والا ایک کیمیائی مادہ Carotenoids آنکھوں کی صحت کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔زراعت اور غذائی کمیسٹری کے جرنل میں شائع مطالعہ میں محققین نے یہ بتایا ہے کہ یہ پھل کس طرح یہ کیمیائی مادہ بناتا اور اس کو ذخیرہ کرتا ہے۔سائنس داں ان طریقوں کو تلاش کررہے ہیں جن سے کیلوں میں Carotenoids کو بڑھایا جاسکیان کے اس مطالعہ سے ایک دن کے لئے کی ایسی قسم تیار کی جائے گی جو صحت کے لئے بے حد مفید ہوگی۔افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں وٹامن اے کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہر سال اندازاً ڈھائی سے پانچ لاکھ بچے مشتعل اندھے ہوجاتے ہیں۔اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ ان میں سے آدھے بچے اپنی آنکھوں کی روشنی کھونے کے ایک سال کے اندر مر بھی جاتے ہیں۔وٹامن اے کی کمی دور کرنے کے لئے سائنس داں ان طریقوں کو تلاش کررہے ہیں جن سے کیلوں میں Carotenoids کو بڑھایا جاسکے۔ یہی وہ مادہ ہے جن کی وجہ سے پھل اور سبزیاں سرخ، نارنجی یا زرد رنگ کی ہوتی ہیں۔یہ جگر میں جاکر وٹامن اے میں بدل جاتا ہے۔کیلے کی الگ الگ قسموں میں اس مادے کی الگ الگ تعداد پائی جاتی ہے۔ پیلے رنگ کے کیلے میں یہ کم پایا جاتا ہے مگر نارنجی رنگ کی قسم کے کیلے میں پکنے کے وقت یہ مادہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ابھی اس بارے میں مزید تحقیق ہوگی اور ایسے کیلے کی نسل تیار کی جائے گی جن میں Carotenoids زیادہ موجود ہوگی
Scroll To Top