[X]

News M D A

MDAعجب کرپشن کی غصب کہانیاں ،ہائیکورٹ میں رٹ منظور ،JITبنانے کی استدعا

میرپور (ظفرمغل سے ) ایم ڈی اے میں عجب کرپشن کی غصب کہانیاں ،اصل لاٹیوں کی فائلیں غائب ،قابض مافیا کی ملی بھگت سے من پسندوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ ،ڈبل الاٹمنٹ ،نقشوں اور پارٹ پلان کی من پسند تبدیلیاں اور جعلسازی و نوسربازی سے جعلی دستاویزات پر قیمتی پلاٹوں کی منتقلی ،پلاٹوں کے سائز میں کمی کرکے اضافی پلاٹوں کی مارکنگ و الاٹمنٹ کے دھندے کا سلسلہ تھم نہ سکا ،ایک متاثرہ شہری کا ہائیکورٹ سے رجوع ،چیف جسٹس نے ایم ڈی اے میںجاری مبینہ میگا کرپشن کے دھندے کی روک تھام کےلئے دیانتدار آفیسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے سے متعلق دائرکردہ رٹ پیٹشن کو ابتدائی سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت کےلئے 4نومبر کی تاریخ مقرر کردی اور محمد محمود بنام آزاد حکومت وغیرہ میں پلاٹ نمبر 2L/5-Aسیکٹر D/3ایسٹ میرپور کی حد تک حکم امتناعی بھی جاری کرتے ہوئے آزاد حکومت کابینہ ،چیف سیکرٹری ،سیکرٹری فیزیکل پلاننگ اینڈ ہاﺅسنگ ،ڈی جی ڈائریکٹر اسٹیٹ ،الاٹمنٹ کمیٹی ،ریوائزنگ اتھارٹی ایم ڈی اے فیصل بشیر سیکنڈ الاٹی اور خریدار سلیم الحق سمیت 13فریقین کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں آزاد کشمیر کے معروف قانون دان قاضی عدنان قیوم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی دائر کردہ رٹ پٹشن کی ابتدائی سماعت کےلئے منظوری اور حکم امتناعی کے اجراءکے بعد ایم ڈی اے میں قابض مافیا اور کرپشن مافیا میں کھلبلی مچ گئی ،تفصیلات کے مطابق ایم ڈی اے میں میرپو رکے ایک رہائشی محمد محمود کی طرف سے آزاد کشمیر کے معروف قانون دان قاضی عدنان قیوم نے آزاد کشمیر ہائیکورٹ میرپو رسرکٹ میں ایک رٹ پیٹشن اور درخواست حکم امتناعی دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ محمدمحمود کو ایم ڈی اے نے 25-05-1995کو الاٹمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں پلاٹ نمبر 2L/5-Aسیکٹر D/3ایسٹ میرپورالاٹ کیا اور 25-05-1995کی الاٹمنٹ منسوخی کے بعد 05-11-1998کو متذکرہ پلاٹ دوبارہ محمد محمود کو الاٹ کیاگیا اور پھر 1990سے 31-12-2001تک کے عرصہ کی تمام الاٹمنٹ کی ریوائزنگ کوقابل ریوائزنگ قرار دیدیا گیا اور ایم ڈی اے آرڈنینس 1974کی سیکشن 48کی ذیلی دفعہ 6کے تحت حکومت آزاد کشمیر نے 07-02-2011کو اس عرصہ کی الاٹمنٹ کی ریوائزنگ اتھارٹی نے درخواست مسترد کردی اور محمد محمود کی اصل فائل مبینہ ملی بھگت سے غائب کرتے ہوئے فیصل بشیر ولد محمد بشیر سکنہ میرا کھائی ڈاکخانہ اسلام گڑھ ضلع میرپو رکو 16اگست 2014کو متذکرہ پلاٹ الاٹ کرتے ہوئے سیکرٹری الاٹمنٹ کمیٹی (وقت) سردار خالد کے دستخطوں سے 6ستمبر 2014کو عارضی الاٹمنٹ لیٹر جاری کیاگیا اور اسی روز قبضہ چٹ بھی جاری کی گئی فیصلہ ریوائزنگ پر ٹی پی (وقت)فاروق الدین ،چوہدری مشتاق ،ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل(وقت) ممبر الاٹ منٹ کمیٹی ،الحاج غلام رسول عوامی ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن(وقت) ممبر الاٹمنٹ کمیٹی چوہدری طارق ڈپٹی کمشنر (وقت) ممبر الاٹمنٹ کمیٹی ،اور راجہ طارق محمود خان چیئرمین الاٹمنٹ کمیٹی کے دستخط ہیں ،جسے فیصل بشیر نے 25لاکھ روپے کے عوض سلیم الحق ولد محمد شریف کو فروخت کرتے ہوئے 9ستمبر 2014کو منتقل کردیا اور تعمیر اجازت نامہ بھی 15-10-14کو جاری کردیا گیا ،پیٹشنر محمد محمود اور معروف قانون دان قاضی عدنان قیوم نے مزید موقف اختیار کیا کہ مافیا نے ملی بھگت سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے منافی پہلی الاٹمنٹ کا ریکارڈہونے کے باوجود دوسری الاٹمنٹ کی جو کہ ایم ڈی اے اسٹیٹ ڈسپوزل ریگولیشن 2011ءفائدہ 7-6کے بھی منافی ہے او ر اس طرح سائل کو قیمتی پلاٹ اور بنیادی حق سے محروم کرتے ہوئے سماعت کا موقعہ بھی نہیں دیا گیا حالانکہ ایم ڈی اے ریکارڈ اور ریوائزنگ اتھارٹی کے مطابق مذکورہ پلاٹ پیٹشنر کا ہی ہے ،رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ ایم ڈی اے آزاد کشمیر میں کرپشن کا گڑھ ہے اور یہاں اصل الاٹی کی بجائے فائیلیں غائب کرکے من پسندوں کو الاٹمنٹ ،پلاٹوں ،سائزوں اور نقشوں میں ردوبدل اور قانون قاعدے کے منافی بے ضابطگیاں ادارہ میں روزانہ کا معمول ہیں اور اس غیر قانونی دھندے کی روک تھام اور کرپٹ مافیا کو بے نقاب کرکے قانون کے مطابق سزاکےلئے دیانتدار افیسران پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم JITبنائی جائے جو ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے انہیں قانون کے مطابق احتسابی عمل سے گزارنے کےلئے احتساب بیورو اور انٹی کرپشن کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں تاکہ ایم ڈی اے میں جاری کرپشن کے دھندے کا مستقل سدباب ممکن ہوسکے ،اور فیصل بشیر سیکنڈ الاٹی کی غیر قانونی الاٹمنٹ بھی منسوخ کی جائے اور آزاد حکومت ،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری فیزیکل پلاننگ اینڈ ہاﺅسنگ آزاد کشمیر کو ہدایت کی جائے کہ وہ تحت قانون متذکرہ دھندے کے خلا ف عملی اقدامات اٹھائیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ مسٹر جسٹس صداقت حسین راجہ نے رٹ پیٹشن ابتدائی سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے 4نومبر کو ہائیکورٹ میرپو رمیں سماعت کی تاریخ مقرر کردی ہے اور آزاد حکومت کابینہ ،چیف سیکرٹری ،سیکرٹری فیزیکل پلاننگ اینڈ ہاﺅسنگ ،ڈی جی ڈائریکٹر اسٹیٹ ،الاٹمنٹ و ریوائزنگ اتھارٹی ،ٹی پی (وقت) فاروق الدین ،ہیڈ کلرک (وقت) ریوائزنگ محمد سرفراز ،انچارج ریکارڈ(وقت )گل محمد ،فیصل بشیر سیکنڈ الاٹی اور خریدارسلیم الحق سمیت 13فریقن کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں ،ایم ڈی اے میں میگا کرپشن کے دھندے کو بے نقاب کرنے کےلئے جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس صداقت حسین راجہ کی طرف سے رٹ کی ابتدائی سماعت کےلئے منظوری کے بعد ایم ڈی اے میں قابض مافیا اور کرپٹ پلاٹ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور انہوں نے اپنے بچاﺅ کےلئے سینئر وکلاءاور حکومتی زعماءسے رابطہ بڑھانے شروع کردیئے ہیں

Scroll To Top