M D A News

میرپور (ظفرمغل سے )”چمک کا کمال“ یا”تگڑی سفارش “،ایم ڈی اے میں براجمان ن لیگی حکومت کی باقیات ڈی جی انور غازی کی سربراہی میں ملازمین نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات سمیت بلڈنگ بائی لازکی بھی دھجیاں بکھرنے کا انکشاف ،میرپور میں زلزلہ کے بعدکمرشل پلازہ جات کی تعمیر 4منزلہ اور رہائشی مکانات کی تعمیر کےلئے 2منزلہ سے زائد کی تعمیر پر حکومتی پابندی کے باوجود شہر میں ہونے والی تعمیرات پر ایم ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن حکام کی آنکھیں بند ،ایک طرف ناجائز تعمیرات کے خاتمہ کےلئے سپریم کورٹ کے حکم پر آپریشن کلین اپ جاری تو دوسری طرف نئی تعمیرات میں خلاف قانون و قواعد بااثر افراد کی ملی بھگت سے رہائشی علاقوں میں 5منزلہ عمارتوں کی تعمیرات بھی ڈھڑلے سے جاری ،سنجیدہ فکر شہریوں میں تشویش بڑھنے لگی ،بعض سنجیدہ فکر شخصیات کی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کےلئے سینئر وکلاءسے مشاورت شروع ،تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات میرپور میں ن لیگی سابقہ حکومت کے دوران آخری سال میں سابق وزیر ارشد غازی کے بھائی انور غازی کو وزیراعظم (وقت) راجہ فاروق حیدر نے ڈی جی تعینات کیاتھا جو آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت کی تشکیل اور صدر ریاست بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کے منتخب ہونے کے باوجود ایم ڈی اے میں ڈی جی کی پوسٹ پر براجمان ہیں اور انکی ایم ڈی اے میں سربراہی کے دوران قانون و ضابطوں کےخلاف اور سپریم کورٹ کے واضع فیصلوں کے منافی توہین عدالت بھی کرتے ہوئے اٹھائے جانے والے قابل گرفت اقدامات کی باز گشت زبان زدعام ہے ،روزنامہ ”عدالت “ کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ میرپور میں زلزلہ کے بعد سے حکومت آزاد کشمیر نے کمرشل پلازہ جات کےلئے4منزلہ اور رہائشی سیکٹرز میں 2منزلہ سے زائد عمارات کی تعمیر پر پا بندی عائد کررکھی ہے جبکہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے بھی روبکار عدالت بنام ڈپٹی کمشنر میرپو رعنوانی زیر سماعت مقدمہ میں ماسٹر پلان کی بحالی کےلئے مفادعامہ کی جگہوں پر الاٹمنٹ کی منسوخی اور تمام ناجائز تعمیرات کی مسمارگی کا حکم صادر کررکھا ہے مگر ادارہ ترقیات میرپور اور میونسپل کارپوریشن میرپور نے تجاوزات کےلئے ایک طرف سپریم کورٹ کے احکامات پر آپریشن کلین اپ شروع کررکھا ہے تو دوسری طرف ملی بھگت سے بعض سیکٹروں میں حکومتی پابندیوں وبلڈنگ بائی لاز سمیت سپریم کورٹ کے واضع احکامات کی بھی دھجیاں بکھرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے روزنامہ ”عدالت “ کی تحقیقات کے دوران یہ بھی بات سامنے آئی کہ سیکٹر ایف تھری پارٹ فور میں محمد حمزہ اکرم ولدڈاکٹر محمد اکرم کی تعمیر آخری مراحل میں ہے جبکہ رہائشی مکان کی تعمیر کا پہلا نقشہ 2منزلہ 27-05-2013کو منظورہوا پھر دوسراتبدیل شدہ نقشہ 21-01-2021کو 3منزلہ نقشہ پاس کرتے ہوئے بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کی گئی اور اب رہائشی پلاٹ پر 5ویں منزل کی تعمیر کے بعد 10-09-2021کو 4منزلہ عمارت کو ایگزیسٹنگ ظاہر کرتے ہوئے ممٹی کی تعمیر کا نقشہ پر پوز ایم ڈی اے میں جمع کروا کر ملحقہ کرواکر ملحقہ بلڈنگ کے ساتھ لفٹ اور بریج بھی ظاہر کرتے ہوئے درخواست بنام ڈی جی میرپو رادارہ ترقیات کو 28-08-21کو حمزہ اکرم نے مین کوٹلی روڈ کے پلاٹ نمبر 90سیکٹر F-3پارٹ فور کو اپنی والدہ غزالہ اکرم اور والد محمد اکرم نے لکھا ہے کے مین کوٹلی روڈ کے پلاٹ نمبر 90سیکٹر ایف تھری پارٹ فور اپنی والدہ غزالہ اکرم اور والد ڈاکٹر محمد اکرم نام پر کمرشل بلڈنگ تعمیر شدہ ہے اور چونکہ مذکورہ پلاٹ میرے پلاٹ سے ملحقہ ہے لہذا اسے کمرشل کیے جانے کی منظوری کے احکامات دیئے جائیں ۔روزنامہ عدالت کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ پلاٹ کا جو نقشہ ادارہ میں 5منزلوں کا جمع کروایا گیا ہے اس پر 10-09-21کو ایم ڈی اے کے سروئیر کے دستخط بھی ہوچکے ہیں جو کہ خلاف قانون و قواعد ہیں اور رہائشی پلاٹ پر 4فلور ایگزسٹینگ بھی ظاہر کئے گئے ہیں جبکہ موقع پر خلاف ضابطہ 5سٹوری عمارت رہائشی سیکٹر میں تعمیر شدہ ہے اسی طرح کی بدوں منظوری نقشہ تعمیرات اور بلڈنگ کوڈ و بائی لاز کی خلاف ورزی کی شکایات بڑھتی جارہی ہیں جو کہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر اور پی ٹی آئی کی نئی حکومت کےلئے لمحہ فکریہ ہیں اور نقشوں کی بدوں منظوری اور رہائشی سے کمرشل فیس کی مد میں بھی ایم ڈی اے کو لاکھوں کا ”ٹیکہ“ لگانے کی مہم بھی عروج پر ہے جس کا متعلقہ ذمہ داران اور پی ٹی آئی کی حکومت کو نوٹس لیکر اس کھلی کرپشن میں ملوث کرداروں کےخلاف کارروائی عمل میں لانی چاہیے تاکہ سرکاری خزانے کو شیرمادرسمجھ کر لوٹنے والوں کو بھی عوام کے سامنے لاکرپی ٹی آئی کے کڑے احتساب کے ویژن کو عملی جامعہ پہنایاجاسکے

Scroll To Top