PSCکیخلاف پرچہ جات میں ٹمپرنگ کے خلاف دائر 7 رٹ پٹیشن ہاء کو یکجا کر دیا گیا

court

مظفرآباد (کے این آئی) متنازعہ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے مختلف آسامیوں کے لئے امیدواران سے لئے گئے تحریری امتحان میں پرچہ جات میں ٹمپرنگ کیس کی عدالت العالیہ کے لارجر بینچ نے اہم ترین مقدمے کی سماعت کی ۔ پبلک سروس کمیشن کے خلاف پرچہ جات میں ٹمپرنگ کے خلاف دائر 7 رٹ پٹیشن ہاء کی یکجا کر دیا گیا ہے پبلک سروس کمیشن کے وکلاء عدالت العالیہ میں پیپرز کی ری مارکنگ کے حوالے سے معقول جواب پیش نہیں کرسکے۔ پبلک سروس کمیشن کے خلاف ٹمپرنگ سکینڈل کی ابتدائی سماعت کرنے والے جج جسٹس صداقت حسین راجہ لارجر بینچ سے علیحدہ ہوگئے ہیں ۔ پبلک سروس کمیشن کے وکلاء کی مشاورت سے تشکیل دئیے گئے جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن پر پبلک سروس کمیشن کے وکلاء نے اعتراض کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے خلاف دائر رٹ پٹیشن ہاء پر عدالت العالیہ کے فل بینچ نے سماعت کی ۔ عدالت العالیہ کا فل بینچ چیف جسٹس غلام مصطفی مغل، جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی اور جسٹس اظہر سلیم بابر پر مشتمل تھا ۔ بحث سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ پبلک سروس کمیشن نے انگریزی کے پیپر جس ممتحن سے مارک کر ائے اس نے اپنے ایک سٹوڈنٹس سے مارکنگ کرائی ۔ عدالت گرامی نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت ری مارکنگ کرائی گئی اگر ری مارکنگ قانون کے مطابق کرائی گئی تو اس کا نوٹفکیشن کہاں پر ہے ۔ عدالت گرامی کے اس سوال پر پبلک سروس کمیشن کے وکلاء کوئی جواب نہیں دے سکے اور موقف اختیار کیا کہ پبلک سروس کمیشن نے ری مارکنگ کا جو فیصلہ کیا وہ زبانی تھا ۔ ممتحن کے ساتھ تمام امور زبانی طے ہوئے سماعت کے دوران پبلک سروس کمیشن کی طرف سے تحریری امتحان ،پرچہ جات میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جس امیدواران کا اردو کا مضمون فیل قراردیا گیا اس کے 83 نمبر نکلے ۔ جبکہ اردو میں مضمون نویسی میں 2 نمبر لینے والے امیدوار کو میرٹ لسٹ میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر رکھا گیا ۔ اس بارے میں جب عدالت العالیہ نے استفسار کیا تو پی ایس سی کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ یہ غلطی سے ہوا ہے عدالت العالیہ نے استفسار کیا کہ ممتحن کے چیک کئے ہوئے پیپر پی ایس سی کے ممبران نے کیسے چیک کئے ۔ سول اور ملٹری بیورو کریسی سے ریٹائرڈ آفیسران جو پی ایس سی کے ممبران ہیں کیا وہ ماہر مضمون ہیں اور ان ہی دو ممبران سے پیپرزکیوں چیک کروائے گئے ۔ بحث کی سماعت کے دوران پبلک سروس کمیشن کے انتقام کا نشانہ بننے والے امیدوار عبدالبصیر تاجور کے وکیل حنیف منہاس ایڈووکیٹ نے عدالت العالیہ کو بتایا کہ پبلک سروس کمیشن میں ناانصافیوں اور نااہلیوں کی ایک سیریل چلی آرہی ہے جب ان کے امیدوار نے پہلی مرتبہ اسسٹنٹ پروفیسر کے لئے امتحان دیا تو فائل سے اس کے فوٹو غائب کیے گئے ۔ دوسری مرتبہ بھی فوٹو غائب تھے ،تیسری مرتبہ پرچہ دینے سے پہلے امیدوار کو فوٹو لینے کے لئے بھیجا گیا ۔ ان کے موکل کو کہا گیا کہ وہ زائد العمر ہے حالانکہ اس کی عمر 8 سال کم تھی ۔ جب رزلٹ آیا تو ان کا موکل فیل تھا ۔ عدالت گرامی میں رٹ دائر کی۔عدالت نے رزلٹ مانگا تو وہ پاس تھا ۔ ان کا موکل ریاست کا واحد امیدوار تھا جو اسسٹنٹ پروفیسر کے لئے اردو اور انگریزی کے مضامین میں کوالیفائی ہوا ۔ لیکن اسے پھر بھی ڈراپ کر دیا گیا ۔ جب نمبر چیک کرائے گئے تو پی ایس سی کا موقف تھا کہ ممتحن کا اختیار ہے کہ وہ جتنی مرتبہ چاہے ری مارکنگ کرسکتا ہے۔ لیکن پی ایس سی کے وکلاء عدالت میں ری مارکنگ سے متعلق معقول جواب نہ دے سکے ۔ بحث سماعت کے دوران پبلک سروس کمیشن کے وکیل راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ پی ایس سی کی طرف سے ری مارکنگ کی کوئی جوازیت نہیں دے سکتے ۔ پی ایس سی کے وکیل خواجہ عطاء اللہ چک نے امیدوار کا پیپر دکھایا اور وہ ایک لفظ پر اعتراض کر سکے ۔ عدالت نے یہ اعتراض غلط قرار دیدیا۔پبلک سروس کمیشن کی طرف سے خواجہ عطاء اللہ چک ایڈووکیٹ ، خواجہ تبسم ایڈووکیٹ اور راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ جبکہ پنشنرز کی طرف سے حنیف مہناس ایڈووکیٹ ، خالد نقشبندی ایڈووکیٹ ، راجہ شجاعت ایڈووکیٹ کوکب الصباح رومی ایڈووکیٹ ، آفتا ب احمد اعوان ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔ عدالت العالیہ کے لارجر بینچ نے عبدالبصیر تاجور کے علاوہ باقی 4 امیدواران کے پیپر بھی طلب کئے ۔ پی ایس سی کی طرف سے پرچہ جات ہنگامی بنیادوں پر عدالت العالیہ میں پیش کئے گئے ۔
Scroll To Top