کشمیرکاز حل ہونے تک کوئی امتحان نہیں،مقبوضہ کشمیر کے طلباء نے امتحانات کا بائیکاٹ کر دیا

kashmiri-students

سری نگر(یو این پی) مقبوضہ کشمیر کے طلبا و طالبات نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید طلبا کے وارثین کو انصاف ملنے تک امتحانات کا بائیکاٹ کر دیا ہے ۔نامساعد حالات کے بیچ جہاں بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویں جماعت کیلئے امتحانی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے وہیں نئی امتحانی تاریخوں کے اجرا کے بعد طلبا وطلبات کی ایجی ٹیشن نے جنم لیا ہے ۔ وادی کے اکثر علاقوں میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے امتحانی تاریخوں کی مخالفت کی اور امتحان میں شرکت کرنے سے انکار کیا ۔ طلبا کا کہنا تھا کہ جب تک نہ فورسز کی جانب سے ہلاک اور زخمی کئے گئے طلبا کو انصاف نہیں ملے گا تب تک وہ امتحان میں بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔پریس کالونی میں مختلف علاقوں سے آئے نجی اور سرکاری اسکولوں کے طلبا وطلبات نے احتجاج کیا ۔طلبا نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے ۔ان بینروں پر ایسے طلبا کی تصور یں بنائی گئی تھیں جو فورسز کی کاروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔طلبا نے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ہر محاذپر ناکام ہو کر اب انہیں امتحان میں بیٹھنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو پہلے ان طلبا وطلبات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جن کی آنکھیں نہیں ہیں اور جو اب امتحان دینے کے قابل نہیں ۔ اس کے بعد سرکار کو کچھ فیصلہ لینا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انشا ، دانش ، باسط ، آکاش اور یاسر کے بغیر امتحان میں بیٹھنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں ۔اسی طرح لڑکیوں کے ایک دوسرے گروپ نے بھی پریس کالونی میں احتجاج کیا۔مظاہرہ کر رہی طالبات نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر امتحان بائیکاٹ کے نعرے درج تھے ۔طالبات کا کہنا تھا کہ امتحان بائیکاٹ کا مقصد یو این او چیف بانکی مون اور دنیا کو جگانا ہے کہ کشمیر میں پر کس طرح بھارت مظالم ڈھا رہا ہے ۔ طالبات نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک طرف طلبا کو اندھاکر رہی ہے اور دوسری جانب امتحانات کیلئے ڈیٹ شیٹ اجرا کر کے امتحان میں شرکت کرنے کا کہہ رہی ہے ۔ اسی طرح شہر کے باغات ، پرے پورہ ، صفاکدل، ایم اے روڑ اوررامباغ میں بھی طلبا وطلبات نے نعرہ بازی کی۔ مظاہرہ کر رہے طلاب انشا کو انصاف دو ، امتحان پر سیاست کرنا چھوڑ دو ، اور امتحان بائیکاٹ کے نعرے بلند کررہے تھے۔ طلاب کا کہنا تھا کہ ہم آزادی کیلئے اپنے مستقبل کو برباد کرنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔اس دوران کچھ ایک مقامات پر پولیس نے طلبا کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا ہلکا استعمال بھی کیا ۔ نومبر میں امتحانات کیلئے ڈیٹ شیٹ اجرا کرنے کے خلاف سوپور میں بھی بوائز ہائی سکنڈی سکول سے لیکر ڈگری کالج سوپور تک سینکڑوں طلبا وطلبات نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ایک ریلی نکالی ۔طلبا کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ہم امتحانات میں شرکت نہیں کریں گے ۔طلبا نے مزید کہا کہ سینکڑوں طلبا کی آنکھیں نہیں ہیں ،ہزاروں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے ،کچھ ایک پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا گیا ہے اور ایسے میں ہم کیسے امتحان میں شرکت کریں گے۔مظاہرین نے کہا کہ ہم دنیا کو یہ دیکھا دینا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کسی طرح انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں ۔ کپوارہ کے ہلمت پورہ علاقے میں بھی 4سو کے قریب طلبا وطلبات نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے امتحان میں شرکت سے انکار کیا ہے ۔
Scroll To Top