لاہور ہائی کورٹ میں انڈین فلموں کی نمائش روکنے کی درخواست

hindi_diwas_crispy

پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش فوری طور پر روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

یہ درخواست ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری نے سنیچر کو دائر کی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اڑی سیکٹر میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان ماحول کشیدہ ہے جب کہ انڈیا نے اپنی افواج کو بھی پاکستان کی سرحد کے پاس پہنچا دیا ہے۔

اشتیاق چوہدری کا کہنا ہے کہ انڈیا میں موجود پاکستانی فن کاروں کو بھی فوری طور وہاں سے نکل جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے سینیماگھروں میں انڈیں فلموں کی نمائش کی اجازت بھی نہیں دی جانی چاہیے اور پاکستانی سینیماگھروں میں جاری انڈین فلموں کی نمائش فوری طور پر روکنے کے لیے عبوری حکم جاری کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی سینیماگھروں میں انڈین فلموں کی نمائش کے خلاف ایک درخواست پہلے سے ہی لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ یہ درخواست سٹیج اداکار افتخار ٹھاکر نے ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری کے توسط سے دائر کی ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انڈیا کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور پاکستان میں انڈین فلم انڈسٹری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اس درخواست میں پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی کی استدعا کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری کے مطابق انڈیا پاکستان میں اپنی فلموں کی نمائش سے جو سرمایہ جمع کر رہا ہے، وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کے خلاف اسلحہ و بارود کی شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے اور گذشتہ کچھ عرصے میں تقریباً پانچ سو کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔

انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے وفاقی حکومت اور سنسر بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے اور کیس کی سماعت 27 ستمبر کو ہو گی۔

 

Scroll To Top