وزیراعظم نااہلی کیس،الیکشن کمیشن کا نواز شریف سے 10 اکتوبر تک جواب طلب

nawaz-sharif-pic

اسلام آباد : الیکشن کمیشن میں وزیراعظم کی نااہلی کےلیے دائر دخواست کی سماعت ہوئی، وزیراعظم سے 10 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا گیا.

وزیراعظم کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت کو چیلنج کردیا، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت پر پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کی ،،وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم نوازشریف کے بیرون ملک ہونے کے باعث وہ جواب جمع نہیں کراسکے،وزیراعظم نواز شریف کے دستخط ہونے کے بعد آج جواب جمع کرادیا جائے گا جبکہ باقی فریقین کی جانب سے جواب دائر کر دئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ نے الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن پہلے ان کے اعتراضات سن لے،پہلے دائرہ سماعت سے متعلق درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے دائرہ سماعت طے کیا جائے جواب جمع کروانے کو تیار ہیں۔

پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہناتھا کہ حکمران جماعت الیکشن کمیشن کو ڈکٹیشن دینا چاہتی ہے،وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جواب دائر نہیں کیا گیا اورجن دیگر سخصیات کی جانب سے جواب دائر کئے گئے ان میں حاقائق کا جواب نہیں دیا گیا ۔

الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم سے دس اکتوبر کو تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت دس اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

پاکستان عوامی تحریک نے الیکشن کمیشن  سے وزیراعظم کی اسمبلی رکنیت معظل کرنے کی  استدعا کی جس پر الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کیس کے فیصلے سے پہلے ہی کیسے رکنیت معطل کی جا سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کے خلاف پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور شیخ رشید سمیت پاناما لیکس متعلق تمام درخوستیں دس اکتوبر تک ملتوی کر دیں۔

وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدرکے خلاف درخواست میں الیکشن کمیشن نے انہیں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی درخواست گزار نواب زادہ صلاح الدین کے وکیل فیصل چودھری کا کہناتھا کہ کیپٹن صفدر نے الیکشن کمیشن کے حکم کے باوجود تحریری جواب جمع نہیں کرایا۔

الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ وزیر اعظم کے وکیل نے گزشتہ سماعت میں جواب جمع کرانے کے لئے وقت مانگا تھا اور اب دوبارہ مزید وقت مانگ لیا ہے ۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عوام جاننا چاہتی ہے کہ وزیر اعظم کے بیرون ملک کتنے اثاثہ ہیں کیا انہوں نے اپنی بیرون ملک جائیداد پر ٹیکس دیا ہے یا نہیں، وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ملک کی باگ دوڑ جن کے ہاتھ میں دی گئی ہے وہ صادق اور امین ہیں یا نہیں۔

وزیر اعظم نے قوم سے جھوٹ بولا اور جائز طریقے سے پیسی بیرون ملک نہیں لے کر گئے،الیکشن کمیشن کوسماعت کے اختیارات ہیں اسی لئے نوٹس جاری کئے۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ را ئےونڈ کسے کی جائیداد نہیں اور وہ عمران خان کے اختجاج کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ہر پاکستانی کو احتجاج کرنے کا آ ئینی حق حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر کا مہینہ وزیر اعظم کی چھٹی کا مہینہ ہے ۔

 

Scroll To Top