نوازشریف نے کشمیریوں کی ترجمانی نہیں کی،خطاب کس کے دباؤ میں کیا یہ وقت بتائے گا:بیرسٹر سلطان

Brstr sltaan

نیویارک(کے این آئی)آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم وپی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے میاں نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر پر بات ضرور کی ہے لیکن یہ اسی روایتی انداز میں کی ہے جس طرح کہ جسطرح کہ وہ گذشتہ تین سال سے کررہے ہیں حالانکہ اڑی کے واقع کے بعد بھارت بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ان حالات میں نواز شریف کو کشمیر پر دوٹوک الفاظ میں بات کرنی چاہیے تھی۔یہاں تک کہ وہ جب امریکی صدر اوبامہ سے ملے تھے تو لکھ کر بات چیت کررہے تھے بلکہ دباؤ میں گفتگو کی تھی۔ان حالات میں کشمیریوں کے زیر اہتمام ہم 26 ستمبر کو بھارتی وزیر خارجہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع بھرپور احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔جبکہ نواز شریف نے کشمیریوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کی اور انھوں نے تقریر کس دباؤ میں کی اور کیسے کی یہ وقت بتائے گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں نیویارک میں چوہدری مدثر کی طرف سے دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نیویارک 26 ستمبر کو بھارتی وزیر خارجہ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر کشمیریوں کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کے لئے پہنچے ہیں۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ نواز شریف چونکہ لکھی ہوئی تقریر کرنے کے عادی ہیں۔اگر وہ شہید بھٹو کی نقل ہی کر لیتے تو بہتر تھا لیکن ایسے لگتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ تقریر پڑھ رہا ہے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے جنہوں نے واضح الفاظ میں بھارت کو جواب دیا ہے کہ اگر بھارت جارحیت کی تو اس کا دوٹوک جواب دیا جائے گا۔میں یقین دلاتا ہوں کہ کشمیری عوام پاک فوج کے ساتھ ہیں اور بھارت کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔دریں اثناء بیرسٹر سلطان محمود چوہدری واشنگٹن بھی جائیں گے اور وہاں پر وہ امریکی ممبران سینٹ و کانگریس اور امریکی وزارت خارجہ، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے مسئلہ کشمیراور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو اٹھائیں گے
Scroll To Top