فیس بُک پر اسرائیل مخالف پوسٹیں نہیں کی جاسکیں گی

facebook-israel

یروشلم: فیس بُک انتظامیہ جلد ہی اسرائیلی حکام کے تعاون سے یہ یقینی بنائے گی کہ فیس بُک پر کوئی بھی اسرائیل مخالف پوسٹ نہ لگائی جاسکے۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب کوئی بین الاقوامی نجی کمپنی کسی ملک کی ’’قانونی طور پر‘‘ تابعدار ہوجائے گی۔ فیس بُک عہدیداروں کے وفد نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل میں اسرائیلی وزیرِ داخلہ اور خاتون وزیرِ سے ملاقات میں اس پر اتفاق کیا کہ فیس بُک پر ایسی تمام پوسٹیں سینسر کردی جائیں گی جو اسرائیل مخالف ہوں یا جن کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔

اسرائیل کی شدید خواہش ہے کہ سوشل میڈیا اس کے مفادات کا احترام کرے اور فیس بُک سمیت، سوشل میڈیا کی کسی بھی ویب سائٹ پر ایسی کوئی عبارت، تصویر یا ویڈیو شائع نہ کی جاسکے جو اسرائیل مخالف ہو یا جس کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا اسرائیلی مظالم پر خاموش رہے۔ فیس بُک کی حد تک اسرائیل کی یہ خواہش جلد ہی پوری ہوجائے گی۔

اسرائیلی وزیر داخلہ اور وزیر قانون دونوں ہی کا شمار شدت پسند یہودیوں میں ہوتا ہے جو خود سوشل میڈیا پر فلسطینیوں اور عربوں سے نفرت پر مبنی مواد پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے ایک موقعے پر وزیر قانون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتیں، اور انہوں نے ہی اسرائیلی کابینہ میں یہ تجویز دی تھی کہ سوشل نیٹ ورکس کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایسا تمام مواد ہٹادیں جسے اسرائیل تشدد پر اُکسانے والا تصور کرتا ہو۔ اسرائیلی حکومت پچھلے 4 ماہ میں ’’تشدد پر اُکسانے والے مواد کو ہٹانے‘‘ کے لیے فیس بُک کو 158 جب کہ یوٹیوب کو 15 درخواستیں دے چکی ہے جن میں سے فیس بُک نے 95 فیصد اور یوٹیوب نے 80 فیصد درخواستیں منظور کیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’دی انٹرسیپٹ‘‘ نامی ویب سائٹ کے کالم نگار گلین گرین والڈ نے لکھا کہ اسرائیل اور فیس بُک میں تعاون سے سوشل میڈیا سینسرشپ کی ان کوششوں کا ہدف مسلمان، عرب اور فلسطینی لوگ ہی ہوں گے۔

بھارت بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے اسی طرح کی غیراعلانیہ پالیسی پر عمل کررہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نہ صرف سیکڑوں احتجاجی فیس بُک پوسٹس ڈیلیٹ کی جاچکی ہیں بلکہ ایسی پوسٹوں پر مشتمل درجنوں فیس بُک پیجز بھی ڈیلیٹ کروائے جاچکے ہیں۔

اس کے برعکس مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے والی اور توہینِ رسالت پر مبنی لاکھوں فیس بُک پوسٹس آج تک موجود ہیں جنہیں ’’آزادئ اظہار‘‘ کے نام پر برقرار رکھا جارہا ہے۔

 

Scroll To Top