سانحہ 9/11،پاکستان نے کیاکھویا،کیاپایا؟،خوفناک مناظرامریکیوں کے ذہن میں آج بھی نقش

nine-eleven
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں ہونے والے نائن الیون واقعے کو پندرہ برس گزرگئے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ آج بھی جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اس خونی جنگ کے مقاصد کےحصول میں دشواری کا سامنا رہا۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر دوہزار ایک کوہونےوالےدہشتگردی کے واقعے نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا۔اس کے بدلے میں سپر پاورنے دنیا سے دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کا نعرہ لگایا اور افغانستان پرہلہ بول دیا۔امریکی قیادت میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کا مشن پندرہ برس بعد بھی ناکامی سے دوچار ہےاور دنیا کے امن پر پہلے سے زیادہ خطرات کے سائے منڈلا رہےہیں۔اس جنگ میں پاکستان بھی دنیا کا بھرپورساتھ دے رہا ہے جس کوتجزیہ کار گھاٹے کا سودا قرار دے رہےہیں۔نائن الیون کے بعد مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا نے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہےاورمغرب اب بھی اس واقعہ کی ذمہ داری مسلمانوں پرڈال رہاہے اورامریکی کانگریس نے سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کابل بھی منظورکیاہے ۔تاہم اس سانحےسے امریکہ کوتوصرف مالی نقصان ہوالیکن مسلمانوں کاجانی ومالی نقصان ہواسوہوا لیکن اس کے علاوہ مغرب نے ہرسطح پرمسلمانوں کاامیج خراب کیااوراب بھی کوشش کررہاہے ۔افغانستان میں امریکہ کی طالبان سے جنگ میں سب سے زیادہ پاکستان کاہواجس کاخمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں اوراس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے بائوجود امریکہ ودیگرمغربی ممالک پاکستان سے ہی ڈومورکامطالبہ کررہے ہیں جوکہ سراسرناانصافی ہے ۔ جبکہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملوں کی آج پندرہویں برسی منائی جارہی ہے۔آج سے ٹھیک پندرہ سال قبل امریکہ میں اس وقت تباہی کا ایک منظردنیا نے دیکھاجب ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ یہ امریکی تاریخ کا سب سے المناک سانحہ سمجھا جاتا ہے جسے نائن الیون کا نام دیا گیا اور ان ہولناک حملوں میں مارے جانے والوں کی یاد میں نیویارک میں خصوصی تقریبات اورریلیاں نکالی جارہی ہیں۔امریکی صدر باراک اوباما نے نائن الیون کی پندرویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی عوام کو کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے دوران اتفاق اوراتحادکا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ کےبعدایوان نمائندگان میں بھی نائن الیون متاثرین کو سعودی حکومت پر مقدمہ کرنے کا بل منظور کرلیا گیاتاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اس بل کو ویٹو کردیں گے۔تاہم ابھی تک حتمی طورپرنہیں فیصلہ ہوسکاکہ پندرہ سال پہلے اس دہشتگردی کے واقعے میں کون ملوث تھا۔

Scroll To Top