اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس، ایکٹ1974 میں ترامیم کمیٹی آن بل اور رولز کمیٹی قائم کر دی گئیں

ajk-assembly

مظفرآباد( پی آئی ڈی ) آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی اورکشمیر کونسل کا مشترکہ اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار فاروق احمدطاہر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ ڈپٹی سپیکر نے مشترکہ ایوان کی رضا مندی سے ایکٹ1974 میں ترامیم کمیٹی آن بل اور رولز کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ۔ آئینی ترامیم کمیٹی 1974میں چوہدری طارق فاروق ،حافظ حامد رضا ، بیرسٹر افتخار گیلانی، ملک محمد نواز، عبدالماجد خان ،مختیار عباسی وزیر امور کشمیر اور وزیر قانون آزاد کشمیر شامل ہیں ۔ کمیٹی آن بل میں بیرسٹر افتخار گیلانی، حافظ احمد رضام چوہدری عبدالمجید ، ملک پرویز اختر اعوان ، میر یونس اور وزیر امور کشمیربرجیس طاہر شامل ہیں جبکہ اونر کمیٹی میں چوہدری محمد اسحاق، کرنل(ر) وقار احمد ، ملک محمد نواز ، ملک پرویز، مختیار عباسی اور وزیر قانو ن راجہ نثار احمد خان شامل ہیں ۔ چوہدری طارق فاروق نے قرارداد پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ صدرآزاد کشمیر کا خطاب قومی امنگوں کے مطابق تھا اس میں رہنمائی کے پہلو بھی تھے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے تجاویزشامل تھیں ۔وفاقی وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر نے مشترکہ اجلاس میں کشمیر پالیسی کیلئے اٹھائے گئے اور وفاقی حکومت کے اقدامات سے ایوان کو آگاہ کیا دونوں شخصیا ت کا خطاب باعث اطمینان اور تقاضوں کے مطابق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر پا ر کی تجار ت جن مقاصد کیلئے شروع کی گئی ہے اسکا جائزہ لینا چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔ 15اگست کو مودی کے بیانات توسیع پسندانہ ہیں اس کے عزائم کو ناکام بنادیں گے ۔ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ الطاف حسین کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہوگا ،منصوبہ کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ نوابزادہ نصراللہ خان بڑے نواب تھے انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے جس کمٹمنٹ کے ساتھ کام کیا وہ قابل فخر ہے ،انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے کشمیریوں کے دل اہل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دیکھ کر ہم خون کے آنسو روتے ہیں ۔ سی پیک کے منصوبہ سے بھارت کو سخت پریشانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں اس وقت تک امن بحال نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ ممبران اسمبلی راجہ عبدالقیوم خان،ڈاکٹر مصطفی بشیر،فائزہ امتیاز، شوکت علی ، یاسین گلشن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے روز اول سے ہی پاکستا ن کے خلاف سازشیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ الطاف حسین ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کررہا ہے ۔ اس شخص نے کبھی پاکستان کو قبول نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو کشمیر پر واضع اور دو ٹوک موقف اپنانے پپر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ ممبران اسمبلی نے کہا کہ اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر حل کروانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خودارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس موقع پر وزیر قانون راجہ نثار احمد خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف پیش کی جانے والی متفقہ قراردادیں پڑھیں جن کو متفقہ طور پر منظور کر لیا
Scroll To Top