علی بیگ تھانہ کا اہلکار بیمہ کمپنی کا ایجنٹ نکلا،محمد صدیق وردی کی آڑ میں گاہک بناتا رہا، قانون بے خبر

police-jatlan

جاتلاں(تحقیقی رپورٹ :غلام قادر چوہدری ) سروس لاء کی دھجیاں پولیس تھانہ علی بیگ تحصیل بھمبر کا سینئر پولیس اہلکار محمد صدیق بیمہ کمپنی کا نمائندہ نکلا، تھانہ انشورنس ایجنٹ کے رحم و کرم پر گذشتہ عرصہ میں دورانِ ڈیوٹی بھی موصوف کی جانب سے حدود تھانہ علی بیگ کے کئی افراد کی بیمہ پالیسیاں کرنے کا انکشاف جسے مخیریا متعدد دیگربے بس حضرات کی جانب سے بطوررشوتی پالیسی کہنا غلط نہ ہوگاقانون کی چھتر چھایا میں ایک ذمہ دار پولیس اہلکار کی جانب سے سنگین نوعیت کا غیر قانونی کام محکمہ پولیس کی کارگزاری پر سوالیہ نشان ثبت کر دیتا ہے محمد صدیق نے 2014ء بیمہ پالیسی نمائندگان کے مقابلہ میں نمایاں پالیسیاں کیں جسکی وجہ سے 2014ء کی بیمہ پالیسی بک میں کمپنی نے انکا فوٹو بہترین نمائندوں میں شامل کیااب دوسری طرف اسی سال موصوف دوران ڈیوٹی بیمہ پالیسیاں کرنے جاتے رہے اور وردی کی آڑ میں اپنے گاہک بناتے رہے اور تا حال موصوف مخصوص کوڈ پربیمہ کمپنی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں گذشتہ عرصہ میں پولیس تھانہ علی بیگ کے حوالے سے اہل علاقہ کی جانب سے سائلین کی درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر اور جانبداری کی شکایات میں بھی محمد صدیق کا کردار رہتا رہا ہے ۔بیمہ پالیسی کمپنیوں کے اپنے نمائندگان کے لیے بنائے گئے اصولوں کے تحت اور قواعد و ضوابط کے تحت ایک نمائندے کو اپنے پالیسی ہولڈر زکو ہرصورت سپیشل سروس دئیے جانے کی ہدایت ہوتی ہے اور انکے ساتھ مکمل تعاون اور خوش اخلاقی کا درس دیا جاتا ہے اب اس صورت میں بیمہ ایجنٹ کا بطور پولیس اہلکار وہ بھی ہیڈ محرر سائلین کو ایک نظر سے دیکھنا اور سلوک کرنا بھی مشکوک ہوجاتا ہے محکمہ پولیس میں محمد صدیق جیسے پولیس اہلکار کی بطور نمائندہ بیمہ کمپنی موجودگی جہاں محکمہ پولیس کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے،کارگزاری پر سوالیہ نشان لگاتی ہے اور عوام کی نظروں میں ریاست کے اہم ترین محکمے کو مشکوک کرتی ہے وہیں یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے دوران تعیناتی تھانہ علی بیگ محمد صدیق نے جتنے بھی کیسوں کی جانچ پڑتال کی اور انکے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا ان میں بیشتر میں وہ یقینی طور پر جانبدار رہے ،ملی بھگت سے کام لیتے رہے اور اپنے بنیادی فرائض ،اولین ترجہیی کو بھول کر اپنے منصب کا ناجائز استعمال کرتے رہے جس سے کئی ایک افراد کو قانون کی جانب سے ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جنکا ازالہ اسی صور ت ہوسکتا ہے کہ حکامِ بالا ایسے شخص کی خصوصی طور پر تحقیق کریں، باز پرس کریں تحت ضابطہ کاروائی کرتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں اور مکمل تفتیش کر کے محمد صدیق کو اس کی غیر قانونی حرکات کی خالصتاً سزا دی جائے۔ مختلف قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ سروس لاء ایکٹ کے تحت محکمہ پولیس سمیت دیگر اہم ترین ریاستی سرکاری محکموں کا ایک حاضر سروس ملازم بطور بیمہ پالیسی ایجنٹ کسی بھی کمپنی میں کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ اپنے نام کا کوڈ جاری کروا سکتا ہے اگر ایسا کام کرتا ہے تو سروس لاء کی خلاف ورزی کے زمر ے میں آئے گا اور اسے ایک سنگین جرم تصور کیا جائے گا ۔پولیس اہلکار محمد صدیق پاکستان ا سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے لیے گذشتہ سالہا سال سے کام کرتا چلا آ رہا ہے اور کمپنی کی ضرورت کے مطابق مطلوبہ ہدف کو عبور کرنے پر کمپنی سے کمیشن سمیت دیگر مراعات بھی لے چکاہے اور کئی پالیسیوں کا کمیشن تا حال وصول کر رہاہے محمد صدیق نے 2014ء میں سیلز آفیسر مسٹر محمد عمران طفیل کی نمائندگی میں بطور ’’سیلز رپریسنٹ ٹیٹو‘‘زیادہ سے زیادہ بیمہ کرنے کے مقابلے کو جیتا ا ور کمپنی کی جانب سے 2014 ء کی ا سٹیٹ لائف انشورنس کی ڈائری میں موصوف کانام بمعہ تصویرشائع کیا گیا جبکہ دوسری جانب وہ پولیس تھانہ علی بیگ میں بطور ہیڈ محررسرکاری ملازمت بھی کر رہا ہے۔
Scroll To Top