دوسری شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی پہلی بیوی کو درندہ نما شوہر نے کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کر ڈالا،جسم کے نازک حصے کاٹ کر لاش کر آگ لگا دی،ورثاء کو دھمکیاں

burnt-dead-body-of-girl

مظفرآباد(بیورو رپورٹ)لائن آف کنٹرول پر واقع وادی نیلم کے علاقے کیل میدان میں غریب گھرانے کی جواں سالہ لڑکی کواس کے انسان نما وحشی درندے شوہر نے دوسری شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے پر ویران جنگل میں لے جا کر کلہاڑیوں کے وار کر قتل کر دیا،ظالم شوہر نے قتل کرنے کے بعد بیوی کے مردہ جسم کو پھانسی دینے کے ساتھ مبینہ طور پر نازک حصے کاٹ کر اسے آگ لگا دی۔علاقے کے نام نہاد شرفا کا جرگہ اور مثالی پولیس بھی قاتلوں سے مل گئی مقتولہ کے ورثا سے سادہ کاغذ پر دستخط کروا کر واقعے کو دبانے کی ناکام کوشش،لڑکی تمہاری چلی گئی اب اپنا منہ بند رکھو ورنہ سب کے خلاف ایف آئی آر درج کر دیں گے پولیس کے اس ظالمانہ سلوک نے انسانیت کو بھی شرما دیا۔14اگست کو کیل میں قتل ہونے والی آ منہ کی ڈیڑھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور اسکی چھ ماہ کی بچی کو بھی ماں کی ممتا سے محروم کر دیا گیا۔ قاتل بدستور آزاد ،قانون اور انصاف کا منہ چڑا رہے ہیں تفصیلات کے مطابق ضلع نیلم کے لائن آف کنٹرول پر واقعہ علاقے کیل میدان کی رہائشی آمنہ بی بی کی شادی محمد رفیق ولد محمد یوسف سے ڈیڑسال قبل شادی ہوئی تھی اور اب انکی ایک چھ ماہ کی بچی بھی موجودتھی اسی دوران محمد رفیق کا علاقے کی ایک اور خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر کوئی چکر چل رہا تھا اور اس نے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اپنی پہلی بیوی کوطلاق دے تو اسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے ،مبینہ قاتل نے مہر کی رقم اور جہیز کے سامان کی واپسی کے خوف سے آمنہ بی بی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور اسے دوردراز جنگل میں اپنے ساتھ لے گیا اور پھر موقع پاتے ہی اس پر کلہاڑیوں کے وار کر دئیے جس سے وہ زمین پر گر گئی اور اس نے تڑپنا شروع کر دیا ظالم نے اسی پر بس نہیں کیا بلکے اس کے گلے میں رسی کا پھندہ بنا کر اسے ایک درخت سے لٹکا کر پھانسی بھی دے ڈالی،اور اسکے بعد اسکے جسم کے نازک حصے بھی کاٹ ڈالے۔مقامی ذرائع کے مطابق تین روز تک نعش جنگل میں پڑی رہی اور جب اس کی گمشدگی کا شور مچا تو اسکے ظالم شوہر نے اپنے ساتھیوں سے ملکر اس کی نعش کو قریبی نالہ نریل میں پھینک دیا ۔اس نعش نالہ نریل میں بہہ کر کیل ہائیڈرل پاور کے ان ٹیک میں پھنسی ہوئی تھی اور وہ مکمل طور پر برہنہ حالت میں تھی اور مقامی لوگوں نے اس نعش کو پانی سے نکال کر اس کے ورثہ کے حوالے کیا۔اس دوران جب پولیس کو اطلاع ملی تو انھوں نے بجائے قاتل کو گرفتار کرنے کے مقتولہ کے غریب ورثا پر دباو ڈالنا شروع کر دیا۔علاقے میں اسی دوران ایک جرگہ بھی منعقد کیا گیا جہاں چوہدری خان ولی نامی شخص نے خطیر رقم کے عوض مقتولہ کے ورثا سے سادہ کاغذ پر دستخط کروا کہ یہ تحریر لکھی کہ آمنہ بی بی کی موت پاوں پھسلنے سے ہوئی جب کہ دوسری جانب آمنہ بی بی کی نعش کو غسل دینے والی خواتین نے بتایا کہ اس کے جسم پر کلہاڑیوں کے وار کیے گئے اور اسکے گلے میں رسی ڈال کر پھانسی دی گئی جس کے واضع نشانات موجود تھے۔لیکن پیسوں کی چمک دمک کے سامنے پولیس نے گھٹنے ٹیک دیئے اور ایک غریب بچی کے قاتل کو نہ صرف گرفتار نہ کیا جا سکا بلکے اس کے لواحقین کو اس بات کا سختی کے ساتھ پابند بنایا گیا کہ اگر کسی کے سامنے زبان کھولی تو کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گئے۔مقتولہ کے ورثا کو اندھیرے میں رکھ کر انھیں بظاہر یہ تاثر دیا گیا کہ قاتل گرفتار ہے اور انھیں انصاف ملے گا۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور ریاست کے درد دل رکھنے والے باسیوں نے حکومت ،انتظامیہ اور چیف جسٹس سے اس واقعے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کوٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور پولیس کے جو اہلکار اس میں ملوث ہیں سب سے پہلے انکی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور مقتولہ آمنہ کو حقیقی معنوں میں انصاف مہیا کیا جائے۔

 

Scroll To Top