مقبوضہ کشمیر کادولہا مظفر آباد کی دلہن بیاہ لے گیا،آر پار خوشی کا جشن

shaaadi

اسلام آباد(KNI)آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان منحوس خونی لکیر کے باعث کئی دہائیوں تک بھائی بھائی ، باپ بیٹے سے اور ماں اپنی بیٹے سے نہ مل سکی لیکن اویس گیلانی اور فائزہ گیلانی نے عارضی سرحد کو اپنے درمیان حائل ہونے کی بجائے زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا. اس کے پار کے پولیس انسپکٹر اویس گیلانی نے اس پار کی دوشیزہ فائزہ گیلانی کو اپنا جیون ساتھی بناکردنیا کو یہ پیغام دیدیا کہ آر پار ایک ہے.
گزشتہ دنوں مظفرآباد کی دوشیزہ سیدہ فائزہ گیلانی نےمقبوضہ وادی میں رہنے والے اپنے عزیز سید اویس گیلانی سے شادی کر لی۔ شادی کی آدھی تقریب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جبکہ آدھی مقبوضہ کشمیر میں طے پائی. گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور فضا میں بارود اور آنسو گیس کی شلوں کی بدبو کے باعث فائزہ اور اویس کی زندگی کے یادگار اور خوشی کا دن سادگی سے طے پایا..شادی کی تقریب میں دنوں اطراف کے بچھڑے خاندان کے لوگوں نے شرکت کی
مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کرناہ کے سب انسپکٹر سید اویس گیلانی اور پاکستان زیر انتظام کشمیر کی پوسٹ گریٹ طالبہ سیدہ فائزہ آپس میں کزن ہیں اور یہ بچھڑے خاندان کی تیسری نسل ہے جن کا ملاپ ہوگیا. اس شادی نےکئی عشروں سے بچھڑے خاندانوں کو ایک کر دیا اور اداس فضا کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔
واضح رہے کہ فائزہ گیلانی نے اسلام آباد کی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس کے فورا بعد پیا گھر چلی گئیں۔ اویس گیلانی جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹر ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ حالات کی وجہ سے شادی سادگی سے طے پاگئی .نکاح کی رسم کے بعد دولہے کا بھائی چند رشتوں کے ہمراہ اپنی نئی بھابھی کو مظفر آبا سے سری نگر لینے کے لیے آیا تھا . اس موقع پر دونوں خاندان کے لوگ اگرچہ خوش تھے تاہم حالات کی خرابی کی وجہ سے خوشی کا اظہار دھوم دھام سے نہ کرسکے
اویس اور فائزہ کی شادی کے روز جب سری نگر کی فضاؤںمیں آزادی کے نعرے گونج رہے تھے اور بھارتی فوج مظاہرین پر گولیاں اور آنسوگیس شل پھینک رہی تھی تو دلہن فائزہ خوشی کی دن غمگین نظر آرہی تھیں. ان کا کہنا تھا کہ اس نے سنا تھا کہ کشمیر زمین پر جنت الفردوس ہے لیکن موجودہ صورتحال پر خوش نہیں ہوں133کشمیر کو جنت ہی رہنا چاہیے

Scroll To Top