دوسرا سورج گرہن کل ہو گا, احتیاطی تدابیر اختیار کریں

eclipse-solar

اس گرہن کو سعودی عرب، یمن، انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں دیکھا جاسکے گا تاہم بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، پاکستان اور دیگر ممالک میں نہیں دیکھا جا سکے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دوران گردش زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔

مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 7 منٹ 40 سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔

 

کینیا میں مقامی داستانوں کے مطابق سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند سورج کو کھانا شروع کرتا ہے۔

وہ افراد جو سورج گرہن کے دوران سیلفی لینا چاہتے ہیں وہ اس سے پرہیز کریں کیونکہ ماہرین امراض چشم کے مطابق سورج گرہن کے دوران سیلفی کھینچنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج کی بنفشی شعاعیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ آنکھ کی پتلی کو جلاسکتی ہیں جس کے سبب آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے یہاں تک کہ بینائی بھی جاسکتی ہے۔

برطانوی کالج برائے امراض چشم کے ماہر ڈینیئل ہارڈی مین کا کہنا ہے کہ سیلفی لینے کے دوران خود کو کیمرے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں آنکھ کا براہ راست سورج سے رابطہ ہونے کا اندیشہ ہے جس کے اثرات انسانی آنکھ پر انتہائی مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔

فرانسیسی ادارے کے مطابق کیمرے کے ذریعے سورج گرہن کو دیکھنے کی کوشش بھی انسانی آنکھ کے لئے ضرر رساں ہے۔

سورج گرہن کے دوران احتیاطی تدابیر:

سورج گرہن کے دوران مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

 

سیلفی لینے سے پرہیز کریں۔

سن گلاسز مت لگائیں۔

دھوپ میں کمپیوٹر کی سی ڈی لے کر نکلنے سے گریز کریں۔

طبی ایکسرے ہاتھ میں لے کر دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کریں۔

گرہن کے دوران استعمال کیے جانے والے خصوصی چشمے استعمال کریں۔

 

واضح رہے کہ رواں سال 2 چاند اور 2 سورج گرہن رونما ہوچکے ہیں۔ پہلا سورج گرہن 9 مارچ اور دوسرا یکم ستمبر کو ہے، جبکہ پہلا چاند گرہن 23 مارچ اور دوسرا 18 اگست کو ہوچکا ہے۔

 

Scroll To Top