نواز حکومت مسئلہ کشمیر کا وہ کونسا حل چاہتی ہے کہ اس کو کشمیریوں سے پوشیدہ رکھا جا رہا ہے:سردار عتیق احمد خان

sardar atiq

دھیرکوٹ(بیورو رپورٹ)مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزا کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نواز حکومت مسئلہ کشمیر کا وہ کونسا حل چاہتی ہے کہ اس کو کشمیریوں سے پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ پارلیمانی وفود میں اگر کسی اور کشمیر ی پر اعتماد نہیں تو حریت کانفرنس اور اپنی جماعت کے ریاستی منتخب نمائندوں کو پارلیمانی وفود میں شامل کر لیتے۔ مسلم کانفرنس مسئلہ کشمیر کو اندرونی اختلافات کی نذر نہیں ہونے دے گی۔ کشمیریوں کو شامل کیے بغیر کشمیر پر مذاکرات معنی خیز نہیں ہوسکتے۔ مجلس عاملہ کی منظوری کے بعد سیز فائر لائن توڑ دینگے۔مسلم کانفرنس ریاستی تشخص کی بحالی کے لئے ریاست بھر میں ریاستی پرچم لہرائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مندری رائے کھیتر اور ہل کے مقام پر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان اجتماعات سے سردار تجمل عباسی، سردار زرین خان، سردار فرید خان، منشی محمد زاہد عباسی، سردار ارشد خان، سردار لیئق عباسی اور دیگر نے خطاب کیا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ ایک ہی سیریل نمبر کے دو الگ الگ بیلٹ پیپرز بنائے گئے۔ نتائج کو تبدیل کیا گیا۔ میثاق جمہوریت بذات خود سیاسی دہشت گردی ہے۔ پچھلے الیکشن میں نواز لیگ نے مسلم کانفرنس کو تقسیم کر کے پیپلز پارٹی کو اقتدار میں لایا اور اس الیکشن میں ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے لیے مخصوص نشست پر نواز لیگ آزاد کشمیر کے صدر سمیت چار سینئر لوگوں نے پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار کو ووٹ دیئے اور پھر اپوزیشن لیڈر اپنی مرضی کا بنوایا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں نے سودا بازی کرنی ہوتی تو یوسف رضا گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے خاتون امیدوار کو ووٹ دینے کی صورت میں ہمیں اپوزیشن لیڈر بنانے کی پیشکش کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی حقیقی اپوزیشن مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف ہیں۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔ حکومت کے ہر اچھے کام کی حمایت اور بُرے کام سے روکیں گے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو آزاد کشمیر کے اندرونی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ انھوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں مسلم کانفرنس پر ریاستی تشخص کی بحالی کے لیے ریاستی پرچم لہرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کو قائد اعظم محمد علی جناح کا پرچم سربلند رکھنے کی سزا دی جا رہی ہے لیکن کسی صورت اپنے نظریے سے پیچھے ہٹ نہیں سکتے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کا نظریہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور یہی نعرہ پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مودی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کروائیں ۔ مودی مقبوضہ کشمیر میں 145 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود اپنے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہونے سے نہیں بچا سکا۔ آزاد کشمیر میں جسطرح خریدو فروخت کی جارہی ہے اُس کا اچھا تاثر نہیں مل رہا۔ جو لوگ خریدو فروخت میں شامل ہیں وہ پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ جو لوگ اُن کے ہاں بِک سکتے ہیں وہ زیادہ وسائل کے ملنے پر ہندوستان کے ہاتھ بھی بِک سکتے ہیں۔ صدر مسلم کانفرنس نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر یوں کو متحد رکھیں لیکن پاکستان کے حکمران کشمیریوں کو تقسیم کرنے پر باضد ہیں۔

 

Scroll To Top