محکمہ امداد باہمی کے خاتمے کیلئے سیکرٹری مالیات نے سمری تیار کر لی ہے:سابق ڈائریکٹر کواپریٹر بینک کا انکشاف

haji khalid

بھمبر(بیورورپورٹ) آزاد کشمیر گورنمنٹ کواپریٹو بینک کے سابق ڈائریکٹر خالد حسین خالد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہون نے کہا کہ محکمہ امداد باہمی ایک فعال محکمہ رہا ہے جس سے کاشتکاران اور کاروباری حضرات کو چھوٹے چھوٹے قرضے فراہم کرتا رہا ہے محکمہ امداد باہمی کا کام سوسائیٹز کو رجسٹر کرنا ہے محکمہ اپنا کام احسن طریقہ سے کرتا رہا ہے یہ محکمہ 1925سے قائم ہے اور اس محکمے کا اپنا ایکٹ ہے جس کے تحت کام کرتا ہے بدقسمتی سے 2005میں زلزلہ کی وجہ سے کاشتکاران اور باقی لوگوں کا مالی و جانی نقصان ہوا نقصان کے ازالہ کیلئے اس وقت کی مسلم کانفرنس کی حکومت عوام سے کریڈٹ لینے کے لیئے 32کروڑ کا قرضہ معاف کیا لیکن محکمہ امداد باہمی کو اس کی وجہ سے ایک روپیہ بھی نہ دیا گیا جس کے بعد محکمہ کا گراف تھوڑا گرنا شروع ہوا بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس خطہ کی بیوروکریسی نے بھی اس پر توجہ نہ دی اس محکمہ کے رولز آف بذنس کے تحت سیکرٹری مالیات اس محکمے کے سیکرٹری رہے ہیں جنہوں نے کبھی محکمہ کی بہتری کے لیے کبھی بھی توجہ نہیں دی اب جب کہ سیکرٹری مالیات ملک محمد صادق کا تعلق کوٹلی آزاد کشمیر سے ہے انہوں نے تو محکمہ کو ختم کرنے کی سمری تیار کی ہے جس کو کابینہ میں پیش کر سبقی ہوئی ہے کہ یہ ڈس کریڈٹ نئی بننے والی ن لیگ کی حکومت بنہیں لے گی محکمہ کے وزیر ڈائریکٹر نجیب نقی نے کمال مہربانی کرتے ہوئے باسی محکمہ کو اصلی اور کمال ڈگر پر چلانے کی پلاننگ شروع کر رکھی ہے باوثوق زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مظفرآباد کے مقامی وزیر تعلیم بیرسٹر گیلانی نے بھی محکمہ باہمی امداد کی بہتری اور فعال بنانے منسٹری امداد باہمی کے ساتھ تعاون کا یقین دلایا ہے انہوں نے مذید کہا کہ محکمہ کے پاس تقریبا 16کروڑ روپے موجود ہیں جس سے محکمہ کا چلایا جا سکتا ہے صرف اس امر کی ضرورت ہے کہ محکمہ امداد باہمی کے سیکرٹری کو تبدیل کیا جائے کیونکہ سیکرٹری مالیات کے پاس وقت نہیں ہوتا اور کسی سیکرٹری کے زمہ یہ ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ محکمہ کی کار گزاری بہتر ہو سکے سابق وزیر امداد باہمی طاہر کھوکھر نے بجٹ میں 4کروڑ روپے کی رقم رکھوائی تھی جس کو بھی سیکرٹری مالیت منظوری نہ دی جس سے محکمہ کے لیے کوئی خاطر خواہ بہتری نہ ہو سکی سیکرٹری مالیات نے بطور سیکرٹری امداد باہمی رجسٹریشن پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے محکمہ کا کام تو سوسائیٹز کو رجسٹر کرنا ہے اور پابندی ہو گی تو محکمہ کے اہل کار کیا خاک کام کریں گے ہماری حکومت وقت اور مجاز منسٹر ڈاکٹر نجیب نقی سے استدعا کہ مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ڈائیریکٹرز کا بورڈ بحال کیا جائے اگر بورڈ بحال نہ ہوا تو قانون کے مطابق کوئی کام نہیں ہو سکے گا خالد حسین خالد نے کہا کہ وہ جلد ہی محکمہ امداد باہمی کے وزیر ڈاکٹر نجیب نقی سے ملاقات کر کے محکمہ امداد باہمی کو فعال کرنے کے لیے تجاویز دیں گے ۔

 

Scroll To Top