فیس بک کی ایک پوسٹ نے 70 سالہ شخص کی قسمت بدل دی

Facebook

 البرٹا (آئی این پی)کینیڈا میں فیس بک پوسٹ نے 70 سالہ شخص کی قسمت بدل دی۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق کینیڈا کے مغربی صوبے البرٹا کے رہائشی 31 سالہ کولن روس ایک ایسے ہی شخص ہیں جن کی خلوص دل سے کی گئی محض ایک فیس بک پوسٹ ایک بوڑھے شخص کے لیے خوشی کا ذریعہ بن گئی۔ گذشتہ ہفتے کولن روس نے البرٹا کے شہر لیتھ برج میں واقع ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ ‘فش اینڈ چپس کا دورہ کیا، کولن کے مطابق’میں اندر گیا اور وہاں ایک بوڑھے شخص کو ایک کرسی پر بیٹھا ہوا پایا، ریسٹورنٹ میں اور کوئی بھی ذی روح موجود نہیں تھا۔کولن کے مطابق ریسٹورنٹ میں موجود شخص وہاں کا مالک 70 سالہ میک ملن تھا، جو اسکاٹ لینڈ سے ہجرت کرکے یہاں آیا تھاکولن کے مطابق میں نے میک ملن سے پوچھا کہ باقی لوگ کہاں ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ کافی عرصے سے اس حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں کہ لوگ ان کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے آئیں، لیکن انھیں ناکامی کا سامنا ہے۔کولن روس کے مطابق، ‘میک ملن نے بتایا کہ گذشتہ کئی ماہ سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں’۔مارکیٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کولن نے میک کی مدد کرنی چاہی، لیکن انھوں نے انکار کردیا، جس کے بعد کولن نے سوچا کہ وہ میک ملن کے لیے ایک بہت اچھی سی سوشل میڈیا پوسٹ کریں گے۔

جس کے بعد کولن نے میک ملن کے ریسٹورنٹ کی ایک تصویر کے ساتھ ایک فیس بک پوسٹ کی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ یہاں ضرور جائیں۔کولن نے لکھا، ‘ہر کوئی جو مجھے جانتا ہے، میرا دل بہت بڑا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ لوگ ترقی کریں، اس ریسٹورنٹ کا مالک ایک ہیرے جیسا، کلاسک انسان ہے، میں لیتھ برج میں موجود ہر شخص سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسے شیئر کریں اور وہاں جاکر اس محنتی انسان کی مدد کریں۔اور اس پوسٹ نے اثرکر دکھایا، جسے اب تک 8 ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا جاچکا ہے اور اب لوگ جوق در جوق اس ریسٹورنٹ کا رخ کر رہے ہیں۔بز فیڈ کینیڈا کے مطابق رواں ہفتے منگل کو 400 سے زائد لوگوں نے یہاں کا دورہ کیا ، جبکہ اگلے دن 500 کے قریب لوگ آئے۔کولن روس کے مطابق 7 سالوں کی محنت کے بعد میک ملن اس کے حقدار تھے۔دوسری جانب میک ملن نے گلوبل نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ ایک فش اینڈ چپس ریسٹورنٹ کھولیں اور کولن روس کا شکریہ جن کی پوسٹ کی بدولت سیکڑوں لوگ ان کے اس ‘خواب’ کو انجوائے کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا، ‘کولن روس نے جو کیا، وہ ان کی اچھائی تھی اور اب لیتھ برج کے لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ان کی اچھائی ہے۔

 

Scroll To Top