ریاض اختر کو گھر بھیج سکتا ہوں تو حکومت کے معاون بیوروکریٹس بھی میرے ریڈار میں ہیں:فاروق حیدر

Farooq Haidar

مظفر آباد(بیورو رپورٹ)قائد حزب اختلاف و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ، 2011 میں ن لیگ کے خلاف بننے والا غیر اعلانیہ انتخابی اتحاد اب کھل کر سامنے آ گیا ہے جسے شکست ہو گی ،گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے پی پی کو اقتدار دلوایا گیا تھا ،حکومتی کرپشن ،بد انتظامی کو تحفظ دینے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے الیکشن شیڈول جاری کرنا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے ،ان سے گزارش ہے کہ انتخابی معاملات اور ضابطہ اخلاق کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلوائیں،حکومت ریاست کو بے آئین کرنا چاہتی ہے ہماری خواہش ہے کہ انتخابات رمضان المبارک سے قبل ہو جائیں، رمضان المبارک اور بعد میں بارشوں کے موسم کے باعث انتظامی معاملات میں مشکل پیش آسکتی ہے وزیراعظم آزادکشمیرانتخابی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں ان کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو فہرستوں کی تصدیق میں تاخیر کرنے کی ہدایات پری پول رگنگ ہیں انہیں انتخابی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں، تعلیم ،جنگلات ،صحت سمیت ریاستی محکمہ جات میں حکومت کی معاونت کرنے والے بیوررکریٹس کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کوئی قرابت داری نہیں چلے گی اگر ریاض اختر چوہدری کو گھر بھیج سکتا ہوں تو آپ بھی میرے ریڈار میں ہیں ،راتوں کو اور چھپ چھپ کر تقرر نامے بانٹنے والے احتساب کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے ،لیگ میں شامل ہونے کے لیے سب کے دروازے کھلے ہیں مگر ٹکٹوں کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ کریگا ،اگر ہم چاہتے تو حکومت کی آدھی کابینہ اس وقت ن لیگ کا حصہ ہوتی ،پاکستان کے اندر غیر جمہوری طریقے سے اگر حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو مملکت خداداد پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے،بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سردار عتیق احمد خان ،مولانا سعید یوسف چوہدری مجید کے گناہ اپنے کھاتے میں اگر ڈالنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں انہیں مقبوضہ کشمیر کے اندر نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف کل اکٹھے ہونے والوں کو ایک لفظ بولنے کی توفیق نہیں ہوئی ،جماعت اسلامی کے شہر سے سابق امیدوار اسمبلی خواجہ عبد الصمد ، معروف وکیل و قوم پرست راہنما کے ڈی خان ایڈووکیٹ ،سابق سیکرٹری حکومت مشتاق اعوان کی اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ مسلم لیگ ن میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر ایم ایل اے سٹی بیرسٹر افتخار گیلانی ،چوہدری منظور،امید وار اسمبلی داکٹر مصطفی بشیر ،ڈاکٹر راجہ عارف ،مبارک اعوان ،نثار الحسن گیلانی ، ،شوکت گنائی ،مرزا آصف ،شوکت اقبال،خالد مغل ،میجر (ر) محمد اجمل ، خواجہ محمد اسلم ،طارق بٹ چاندی ،راجہ لیاقت ،ندیم زرگر ،فرید خان ،زاہد القمر خان،کے علاوہ بڑی تعداد میں کارکنان بھی موجود تھے اس موقع پر قاری وقار احمد میر ،ابرار احمد میر ،راجہ جنید خان ،فیضان قیوم مغل ،دانیال سرور خواجہ نے بھی اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ شمولیت کا اعلان کیا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کچھ لوگوں کو صاف شفاف انتخابی فہرستیں بننے سے تکلیف ہے یہ کام حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ہوا جس میں پورے آزادکشمیر سے اسی ہزار ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے حکومت اور گزشتہ روز ہونے والی جگتو فرنٹ کی میٹنگ میں خلاف حقائق باتیں کی گئیں چوہدری مجید وفاق کے ساتھ لڑائی میں پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے نظریاتی رشتوں کو کمزور کررہے ہیں حکومت انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کے چکروں میں ہے مگر اپنی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر یہ ریاست کو بے آئین کرنا چاہتے ہیں وزیراعظم کو یہ اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ انتخابی معاملات سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کرے انتظامی آفیسران کو یہ ہدایات دینا کہ تین ماہ تک نادرا فہرستوں کی تصدیق نہ کی جاے انتخابی معاملات میں مداخلت ہے ،حکومت دن رات لگا کر تقرریاں کررہی ہے اس کی معاونت کرنے والے بیوروکریٹس کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی ساری سرگرمیاں مانیٹر کی جارہی ہیں چھٹی کے دنوں میں راتوں کو تقررنامے جاری کرنے والے بچیں گے نہیں ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ بروقت انتخابات کو یقینی بنائیں گے کونسل کے انتخابات اور آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد میں آئینی طور پر فرق موجود ہے انتخابات کے حوالے سے تاخیر نہیں ہونی چاہیے یہ اختیار چیف الیکشن کمشنر کا ہے کہ وہ کب کروائیں مگر آئینی مدت کے اندر ضروری ہے ان سے گزار ش ہے کہ وہ فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس بلوائیں اور ضابطہ اخلاق طے کر کہ اس پر سختی سے عملدرآمد کروائیں ،ایک سوال کے جواب میں راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء آزادکشمیر کے اندر ن لیگ کے کارکن کے طور پر جلسوں میں شرکت کرتے ہیں جو کہ حکومت کو مداخلت لگتی ہے اور جو کام یہ دن رات کرنے میں لگے ہوے ہیں یہ پی ٹی آئی اور مسلم کانفرنس کو نظر نہیں آتا جوکہ انتہائی حیرانی کی بات ہے ،انہوں نے کہا کہ محکمہ جات کے اندر جو کرپشن کی گئی اور جو جعلی تقرریاں کی گئیں ان پر خاموش نہیں رہیں گے حکومت پری پول رگنگ کررہی ہے جبکہ الزامات وفاقی حکومت پر لگاے جارہے ہیں ،وزیراعظم پاکستان آزادکشمیر بھر کا دورہ کرینگے ۔

 

Scroll To Top