کشمیریوں سے رائے پوچھی جائے کہ کون کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے،جو فیصلہ ہوا ہمیں منظور ہو گا،سید علی گیلانی

Syed ali gelani

سرینگر(یوا ین پی )کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جموں کشمیر کی تشویشناک صورتحال کسی بھی صورت میں بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔ گیلانی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل عیاد امین مدنی کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف قراردادوں اور پریس بیانوں سے ہمارے درد کا مداوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ہماری ناگفتہ بہ صورتحال اور روزمرہ کے قتل وغارت گری کا تقاضا ہے کہ اخباری اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ گیلانی نے سیکریٹری جنرل سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کا یہ تجزیہ حق بجانب ہے کہ یہاں کی موجودہ صورتحال ریفرنڈم کے حصول کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ کہ کسی کو اس سے خوف نہیں کھانا چاہیے۔ ہم بار بار اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ یہاں بسنے والے تمام لوگوں سے رائے پوچھی جائے کہ کون کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اور جو اکثریت کا فیصلہ ہوگا وہ ہمیں قبول ہوگا۔گیلانی نے کہا کہ ہمارے اس مبنی برصداقت موقف کے جواب میں بھارت صرف اور صرف طاقت کا استعمال کرکے اپنی فوجی قوت میں روزبروز اضافہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا ادارہ مسلم امہ کو درپیش مسائل پر اپنا ایک مضبوط، ٹھوس اور حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرکے اس کے منصفانہ حل کے لیے بھارت پر ہر قسم کا دباو ڈال کر مظلوموں کی دادرسی کرنے کے لیے پیش پیش ہوتا، لیکن اس حوالے سے ماضی کا تجربہ حوصلہ افزا نہیں، بلکہ مایوس کن ہی رہا ہے، ورنہ 70سال سے امت کا ایک اہم جز مصیبتوں کی دلدل میں پھنس کر اپنے بہی خواہوں کو مدد کے لیے نہیں پکارتا ہوتا۔سید علی گیلانی نے کہا کہ آج پوری قوم بھارت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اس جدوجہد کا یکسوئی سے ساتھ دیں، کیونکہ یہ جدوجہد ہمارے جوانوں کے لہو سے بہت ہی قیمتی بن گئی ہے۔ ایک عوامی جلسے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں بھارت کے ان استعماری حربوں اور مظالم کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہئے بلکہ اپنی آخری سانس تک جدوجہدِ آزادی کے ساتھ وابستہ رہنا چاہئے۔

 

Scroll To Top