مقبوضہ کشمیر میں45ویں روز بھی حالات بدستور کشیدہ،بھارتی فوج کی طرف سے مسلسل کرفیو کا سلسلہ جاری

India-Army-Kashmir-Nationalturk-14

سرینگر(یوا ین پی)مقبوضہ کشمیر میں45ویں روز بھی حالات بدستور کشیدہ،بھارتی فوج کی طرف سے مسلسل کرفیو کا سلسلہ جاری ۔کشمیری حریت پسند عوام کیا احتجاج کی شدت کم نہ ہو سکی،آزادی کے متوالوں نے تحریک آزادی کی کامیابی تک جدو جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے۔سرینگر میں ایک نوجوان بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا۔اننت ناگ، سوپور، بہرام پورہ رفیع آباد،پلوامہ، کنگن مین شدید مظاہرے ہوئے جس کے دوران100لوگ زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز نے سرینگر کی طرف دودھ کی سپلائی کرنے والے ڈرائیور کو زد کوب کرکے لہو لہان کر دیا۔ا دیلگام،پاری گام،مولو،چتراگام اور شمسی پورہ جلسوں میں ہزاروں لوگوں پر مشتمل انسانی سروں کا سیلاب نظر آیا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرہ بازی ہوئی۔سری نگر شہرمیں سخت کرفیو کی وجہ سے آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی ہے۔ فورسز اورپولیس اہلکاروں نے گلیوں کو بھیخار دار تار اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے ۔ سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے اور مجموعی طور پر شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا۔ضلع گاندربل میں مکمل طور پر ھڑتال رہی۔گاندربل،کنگن،صفاپورہ، تولہ مولہ سمیت دیگر علاقوں میں دوکانیں بند رہی جبکہ ٹریفک کی نقل و حرکت معطل رہی۔فتح پورہ میں نماز ظہر سڑک پر ادا کرنے کے بعد مقامی لوگوں کی کثیر تعداد نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔شوپیاں کے مولوہ چتر گام میں ہزاروں لوگوں نے جمع ہو کر اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی جبکہ اس دوران سبز ہلالی پرچم بھی لہرائے۔ پلوامہ کے کئی علاقوں سے پاری گام چلو کا جلوس برآمد کیا گیا اور اس دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی کی گئی۔ نیوہ پلوامہ میں بھارتی فورسز نے سرینگر کی طرف دودھ کی سپلائی کرنے والے ڈرائیور کو زد کوب کرکے لہو لہان کر دیا۔پلوامہ قصبے میں شام کو فورسز کا پہرہ ہٹتے ہی نوجوانوں نے سنگبازی کی جبکہ فورسز نے بھی جوابی کاروائی عمل میں لائی اور آنسو گیس و مرچی گیس کے گولے داغے۔اننت ناگ کے برینٹی بٹہ پورہ دیلگام میں بھی احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا جس میں مرد و زن اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ اننت ناگ کے مومن آباد میں2نوجوان پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے جبکہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے ایک نوجوان کی دونوں آنکھوں پر پیلٹ لگے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان کی ایک آنکھ کی پتلی پر چھرئے لگے ہیں جس کی وجہ سے اس کے آنکھوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔اس دوران دونوں نوجوانوں کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ بارہمولہ کے بہرام پورہ رفیع آباد میں اس وقت کہرام مچ گیا جب فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر راست پیلٹ فائرنگ اور ٹیر گیس شلنگ ہوئی جس میں70کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ جن میں سے9کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس موقعہ پر فورسز نے2نوجوانوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی۔سرحدی ضلع کپوارہ کے حساس علاقوں ترہگام،لعل پورہ،کرالہ پورہ،لنگیٹ اور دیگر جگہوں پر غیر اعلانیہ کرفیو اور سخت بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جبکہ گناہ پورہ،لنگیٹ اور ادھی پورہ میں لوگوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر احتجاجی دھرنا دیا اور گرفتار نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور اس دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی ہوئی۔ خانقاہ معلی کے امام قاری نصیر احمدشیخ ہلمت پورہ کپوارہ اپنے آبائی گاؤں کی جانب جارہے تھے ،جس دوران فوجی اہلکاروں نے انہیں مارپیٹ کر کے لہو لہان کردیا ۔مذکورہ امام اسپتال کپوارہ میں زیر علاج ہیں۔ امام کو سرینگر ،کپوارہ شاہراہ پرفروٹ منڈی سوپور بائی پاس کے نزدیک گاڑی سے اتار کر تشدد کو شکار بنایا گیا ۔مذکورہ امام کے بھائی شبیر احمد کا کہنا ہے کہ غالبا داڑھی رکھنے کی وجہ سے انکے بھائی کی مار پیٹ کی گئی ۔ اس واقعہ پر لوگوں نے احتجاج بھی کیا ۔بانڈی پورہ میں سخت بندشوں کے دوران گلشن چوک میں مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس کے دوران اسلام و اازادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔

 

Scroll To Top