مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند نوجوانوں کے احتجاج کے سامنے بھارتی فوج کی ہمت جواب دے گئی،حکومت کو موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کے مشورے

759133-modi-1410097686-713-640x480

سرینگر(یو این پی)مقبوضہ کشمیر میں آزاد پسند نوجوانوں کے احتجاج کے سامنے بھارتی فوج کی ہمت جواب دے گئی،بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڑانے حریت قیادت اوربھارتی حکومت کو مل بیٹھ کر موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دے دیا۔بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڑانے حریت قیادت اوربھارتی حکومت سمیت فوج کو سرجوڑکر موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ایک ادارہ تنہا کچھ نہیں کرسکتا۔ وادی میں موجودہ صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے شمالی کمان کے فوجی سربراہ جنرل ڈی ایس ہوڑانے کہا ہے کہ گزشتہ40دنوں سے بچے اسکول نہیں جاتے،ملازمین ڈیوٹی پر حاضر ی نہیں دیتے اور فورسز و پولیس کو سنگبازی و احتجاجی مظاہروں کی صورتحال سے نپٹنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے باہر نکلنے کیلئے سب لوگوں کو اکھٹے مل کر حالات کو سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔وادی میں بھارتی فوج کی سب سے بڑی حربی تنصیب بادامی باغ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڑا نے کہا حریت قیادت ،بھارتی حکومت اور سیکورٹی فورسز کو مل کر اس صورتحال سے باہر نکلنے کیلئے راستہ تلاش کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یک طرفہ کچھ نہیں کا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹ کر ایک ساتھ بیٹھ کر موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سیکورٹی فورسز کو انتہائی صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت دی گئی ہے وہیں دوسری طرف کو بھی دیکھنا ہوگا کہ سیکورٹی فورسز،پولیس تھانے اور فورسز کیمپوں پر حملے نہ کئے جائیں۔ان کا کہناتھا کہ تشددکا سلسلہ 40روز سے جاری ہے اور اس سے کوئی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ان کا کہناتھامیری اپیل امن کی ہے،ہمیں بیٹھناہوگا،سرجوڑ کر دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ نکال پائیں گے ،لہذا ہر وہ فرد ،جو جموں وکشمیر میں کسی بھی طرح ملوث ہو،کو محاسبہ کرناہوگااور دیکھنا ہوگا کہ اس کو روکنے کیلئے ہم کیا کرسکتے ہیں۔یہ کسی جماعت یا فرد کا معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایک جماعت یا فرد اس کو اکیلے حل کرسکتا ہے۔ان کا مزید کہناتھاحقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی اس میں شامل ہے،چاہے وہ سیکورٹی فورسز ہوں ،علیحد گی پسندہوں،حکومت ہو یا طالب علم ۔ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا ،میری اپیل اس ضمن میں سب کیلئے ہے۔یہ پوچھے جانے پر کیا ان کی اپیل حریت پسندوں کیلئے بھی ہے ،ان کا کہناتھاہر ایک کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔

 

Scroll To Top