مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک اور نہتے شہری کو شہید کر دیا درجنوں زخمی ہو گئے

India-Army-Kashmir-Nationalturk-14

سری نگر(یو این پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک اور نہتے شہری کو شہید کر دیا ہے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں نوجوان لیکچرار شبیر احمد مونگا کو فوج نے دوران حراست تشدد کرکے شہید کر دیا گیا ۔ شبیر احمد کو پامپور کے کھریو علاقے سے 28 دوسرے نوجوانوں کے ساتھ گزشتہ روز گرفتار کیا گیا جبکہ جمعرات کو اس کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی ۔ شبیر احمد کی شہادت کی اطلاع پر سینکڑوں افراد نے کرفیو ٹوڑ کر مظاہر ہ کیا۔ جمعرات کو بھی مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال اور کرفیو جاری رہا اس دوران کئی مقامات پر مظاہرے ہوے بٹہ مالو میں احتجاجی جلوس برآمد ہوا،جو اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔اس موقعہ پر پہلے سے تعینات فورسز اور پولیس اہلکار بھی متحرک ہوگئے اور انہوں نے لوگوں کی پیش قدمی کو ناکام بنادیا تاہم جلوس میں شامل لوگ وہی سڑکوں پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔احتجاجی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے جن پرآزادی واحد حل اور آزادی سے کم کوئی چیز قبول نہیں کی تحریر درج کی گئی تھی۔ جب ڈلگیٹ سے ایک جلوس برآمد ہوا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے یو این اؤ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔احتجاجی مظاہرین نے ملہ ٹینگ کی جانب سے جانے کی کوشش کی تاہم پولیس بھی نمودار ہوئی اور انہوں نے احتجاج کر رہے لوگوں کو منتشر کیا۔برین میں نوجوانوں نے سونہ وار کی طرف رخ کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز اور پولیس نے انکی کوشش کو ناکام بنا دیا اور جلوس کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے جبکہ نوجوانوں نے فورسز پر سنگباری کی۔احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان خشت باری وجوابی خشت باری کا سلسلہ کافی دیر تک وقفے وقفے سے جاری رہا جبکہ فورسز نے پیلٹ بندوق کا استعمال کیاجس کے دوران6نوجوان زخمی ہوئے۔ پیر باغ علاقے میں اس وقت فورسز کو ہوا مین گولیوں کے کئی راؤنڈ چلانے پڑے جب مقامی لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے کاروائی عمل میں لائی گئی۔اس دوران پیر باغ میں ان گرفتاریوں کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ائر پورٹ روڑ پر دھرنا دیا اور نعرہ بازی کی۔عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی جس کے دوران خشت باری کے واقعت بھی پیش آئے اور فورسز نے لوگوں کو انتہائی حساس روڑ ائرپورٹ رور سے ہٹانے کیلئے ہوا میں گولیاں بھی چلائی۔ اس دوران پیلٹ لگنے کی وجہ سے3خواتین سمیت8افراد زخمی ہوئے جن میں زونہ بیگم،حاجرہ اختر اور عتیقہ بانو شامل ہے جبکہ شبیر احمد نامی نوجوان کی ٹانگو پر بھی پیلٹ لگ گئے۔یو این چلو مارچ کی کال کے سلسلے میں نواکدل سرینگر سے حریت (ع) لیڈر مسرور عباس کی قیادت میں سینکڑوں لوگوں نے اقوام متحدہ کے مبصرین کے آفس سونہ وار کی جانب مارچ کیا لیکن پولیس کی جانب سے جگہ جگہ قدغن اور رکاوٹوں کے باعث لوگوں نے نواکدل میں ہی دھرنا دیا۔اس دوران چھتہ بل سے بھی یو این اؤ مارچ برآمد ہوا تاہم فورسز نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔اس دوران جلوس میں شامل لوگ دھرنے پر بیٹھ گئے تاہم فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کا استعمال کیا۔ادھر نوجوانون نے بھی سنگبازی کی جس کے بعد فورسز نے پیلٹ بندوق کا استعمال کیا جس میں ایک نوجوان زخمی ہوا۔ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی یو این اؤ مارچ برامڈ کیا تاہم انکی پیش قدمی کو فورسز نے روکا جس کے بعد وہ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ صورہ میں نماز مغرب سڑک پر ہی ادا کی گئی جس کے بعد لوگوں نے جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق فورسز اور پولیس نے جلوس پر دعوی بول دیا اور پیلٹ و ٹیر گیس شلنگ کی جس کے دوران6افراد زخمی ہوئے۔

Scroll To Top