بھارت اور کٹھ پتلی حکومت بیگناہ کشمیری نوجوانوں کے قتل سے تحریک آزادی کو ہرگز نہیں دبا سکیں گے‘ آسیہ اندرابی

1330521_Wallpaper1

سرینگر(یوا ین پی)مقبوضہ کشمیر میں دختران ملت کی سر براہ آسیہ اندربی نے کہا ہے کہ چھتہ بل کے ریاض احمد شاہ اور لیتہ پورہ کے فاروق احمد کا اندوہناک قتل کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کیلئے چشم کشا ہے جو قابض بھارتی فورسز کے قتل و غارت کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار نوجوانوں کے حملوں سے بچنے کے لیے اپنے دفاع میں گولی اور پیلٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ یواین پی کے مطابق آسیہ اندرابی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کولگام میں پر امن جلوسوں کیخلاف بھارتی قابض فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں ریڑھ سو کے قریب افراد زخمی ہو گئے جبکہ قابض قابض اہلکاروں نے درجنوں موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ ریاض احمد شاہ شام کے وقت اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا جب ان کے پیٹ میں پیلٹ مارے گئے اور اسی طرح سے کچھ روز قبل بیج بہاڑہ کے احمد ، اچھ بل کے سجاد احمد ٹھوکر اورٹینگہ پورہ کے شبیر احمد وہلال احمد کوبھی گولیاں ماری گئیں جسکے بعد انہیں سڑک پر گھسیٹ کر خون میں لت پت چھوڑ دیا گیا۔ آسیہ اندرابی نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سے استفسار کیا کہ آخر وہ کب تک اقتدار کے نشے میں چور اپنا حق مانگے کی پاداش میں کشمیری نوجوانوں کو قتل کراتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے والدجب 1990 میں جب بھارتی وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے بھی اس وقت تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دے دی تھی لیکن وہ ناکام ہوئے اور کشمیری اس وقت بھی پوری شدت کے ساتھ اپنی جدوجید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کشمیریوں کے اصل نمائندے وہ لوگ ہیں جو غیر قانونی بھارتی تسلط سے نجات کے لیے جدوجہد اور اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں جسکا ثبوت برہان مظفر وانی کے جنازے میں لاکھوں کشمیریوں کی شرکت ہے۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے اور جموں وکشمیر کے سیاسی مستقبل کا تعین استصواب رائے سے ہی ہوگا۔

Scroll To Top