ہمارا مقصد اقتدارنہیں بلکہ عوام کی خدمت، پاکستان کی ترقی اورخوش حالی ہے حکومت کی اہمیت نہیں بلکہ پاکستان اولین ترجیح ہے:نواز شریف

nawaz

اسلام آباد(یواین پی)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلندیوں کو چھو چکے ہیں اور اب ہم خوشی سے رواں سال آئی ایم ایف کے پروگرام کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں، ہمارا مقصد اقتدارنہیں بلکہ عوام کی خدمت، پاکستان کی ترقی اورخوش حالی ہے، ہمارے لیے حکومت کی اہمیت نہیں بلکہ پاکستان اولین ترجیح ہے،غافل لوگ انتشار کی سیاست سے ملک کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں، ہمیں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے، دہشت گردی کے خلاف فوج، پولیس اورعوام نے بڑی قربانیاں دیں، دہشت گردی کی وجوہات کاپتہ چلایاجاتاتو یہ نہ پھیلتی، حال کے ساتھ مستقبل کو بھی روشن بنانے کے لیے پرعز م ہیں،مسلم لیگ ن کا ریکارڈ ہے کہ وہ ترقی کی سیاست کرتی ہے ۔وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں مسلم لیگ( ن) کے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ، وزیراعظم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حال کے ساتھ مستقبل کو بھی روشن بنانے کے لیے پرعز م ہیں، مسلم لیگ ن کا ریکارڈ ہے کہ وہ ترقی کی سیاست کرتی ہے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ کون ترقی کی سیاست کرتا ہے اور کون انتشار کی،عوام اب باشعور ہوگئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ 2011میں بڑے لوگوں نے سیاست چمکانے کی کوشش کی لیکن 2013کے انتخابات میں عوام نے ہمیں منتخب کیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں کامیابی تاریخی ہے، گلگت بلتستان اور بلدیاتی انتخابات میں عوام نے ہم پر اعتماد کیا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلندیوں کو چھو چکے ہیں اور اب ہم خوشی سے رواں سال آئی ایم ایف کے پروگرام کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں۔اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد اقتدارنہیں بلکہ عوام کی خدمت، پاکستان کی ترقی اورخوش حالی ہے، ان کے لیے حکومت کی اہمیت نہیں بلکہ پاکستان اولین ترجیح ہے، ترقی کی سیاست مسلم لیگ(ن)کا ریکارڈ ہے، ہم حال کے ساتھ مستقبل کو بھی روشن بنانے کیلیے پرعزم ہیں، 2011میں لوگوں نے سیاست چمکانے کی کوشش کی لیکن عوام اب باشعورہوچکے ہیں، وہ جانتے ہیں کون ترقی کی سیاست کرتا ہے اورکون انتشارکی، اسی لیے 2013کے انتخابات میں عوام نے ہمیں منتخب کیا۔ گلگت بلتستان اور بلدیاتی انتخابات میں بھی عوام نے ہم پر اعتماد کیا جب کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمیں اپنے کام کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے اور نئے جذبے کے ساتھ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہے۔ غافل لوگ انتشار کی سیاست سے ملک کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں، ہمیں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ 2013میں جب ہماری حکومت آئی تو ہمارے لیے دہشت گردی کا خاتمہ، معیشت کی بحالی اور توانائی کے بحران پر قابو پانے جیسے 3 بڑے چیلنجز تھے، الحمد اللہ آج ہم اپنے پاں پرکھڑے ہوگئے ہیں، دہشت گردی پرقابوپا لیا گیا ہے، معیشت کی بہتری میں اسحاق ڈارنے بہت محنت کی ہے، 2013میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلندیوں کو چھو چکے ہیں۔ اب ہم خوشی سے رواں سال آئی ایم ایف کے پروگرام کو خداحافظ کہہ رہے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ معاشی ترقی اورامن کا گہرا تعلق ہے، ملک کو امن کا گہوارا بناناچاہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف فوج، پولیس اورعوام نے بڑی قربانیاں دیں، دہشت گردی کی وجوہات کاپتہ چلایاجاتاتو یہ نہ پھیلتی، پرویز مشرف اور ان کیساتھیوں کو پارلیمنٹ کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سے اس معاملے پر پوچھا جانا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013سے پہلے کے حالات کو دیکھنا چاہیے اور یہ بھی کہ ملک میں دہشت گردی شروع کس نے کی اور اس کی کیا وجوہات تھیں، ان سب باتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2013تک کراچی کی صورتحال انتہائی خراب تھی، لیکن آج وہاں کی صورتحال کافی بہتر ہے اور یہ میں نہیں کہتا بلکہ کراچی کے لوگ خود کہتے ہیں۔کراچی کی صورتحال آج ماضی کے مقابلے میں بہت بہترہے، سرمایہ کارکبھی کراچی آنے سے ڈرتے تھے،آج آرہے ہیں، کراچی میں گرین بس وفاقی حکومت جلد مکمل کرے گی، ہم کراچی میں پانی کے بحران پرقابوپانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔وزیراعظم نواز شریف نیکہا کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز کے لیے چین نے ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا۔وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت کے دوران شروع کیے گئے توانائی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بجلی کے منصوبوں کی وجہ سے 100ارب روپے کی بچت ہوئی۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ تھر میں نکلنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا اور ہم سب ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔وزیراعظم نے بلوچستان میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم گوادر کو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ شہر بنادیں گے جس پر لوگ فخر کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کی ترقی و خوشحالی سے غرض ہے، ہم دھرنوں کی نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہجب چینی صدر شی جن پنگ پاکستان آئے تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ سی پیک منصوبہ چین کی طرف سے آپ کے لیے ایک تحفہ ہے،وہ بھی اس گھڑی کے منتظر تھے کہ ہماری حکومت قائم ہو اور ہم یہ کام شروع کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پوری دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے، اآئی ایم ایفسے بھی مذاکرات طے پاگئے ہیں اور اب وقت ہے کہ ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں۔’آج کوئی ہمیں ناکام ریاست نہیں کہتا، بلکہ دنیا ہمیں ایک ابھرتی ہوئی معیشت کہہ رہی ہے،آج پاکستان کے ڈیفالٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

Scroll To Top