برہان مظفر وانی کو پس از شہادت تمغہ عزیمت (تجدید واحیائے تحریک آزادی کشمیر) سے نوازنے کا فیصلہ

Burhaan wani shaheed

سری نگر(یو این پی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے برہان مظفر وانی کو پس از شہادت تمغہ عزیمت(تجدید واحیائے تحریک آزادی کشمیر) سے نوازنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تحریکِ مزاحمت، اس کی شدت اور اس کے پھیلاو کو شہید برہان وانی کے اس پرخلوص جذبے اور جرات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج رام بن سے ٹیٹوال تک، کشتواڑ سے اوڑی تک، لداخ سے گریز تک تمام مردوزن یکسو ہوکر بھارت کے خلاف جدوجہد میں پھر ایک بار سرگرم ہوگئے ہیں ۔ برہان کے خون نے اس تحریک کو نئی جلا بخشی اور ہم من حیث القوم اپنے اس عظیم کے جذبے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ گیلانی نے برہان کے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی کہ خوش قسمت اور نیک والدین کی تربیت سے اسلام اور آزادی کے ایسے ہی متوالے پروان چڑھتے ہیں۔گیلانی نے ترکی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسلامی کانفرنس کی طرف سے فیکٹ فاینڈنگ مشن کشمیر بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسی طرح باقی اسلامی ممالک بھی مظلوم کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کی حمایت میں اپنی آواز بلند کریں گے۔ یہ ان کا اخلاقی اور انسانی ہی نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے جموں کشمیر کے حالات پر نظر (Monitor) کرنے کے بیان پر رائے زنی کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ یہ ادارہ اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں کو عملانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ یہاں کے گلی کوچوں میں بہہ رہی خون کی ندیاں اس ادارے کے لیے کوئی تشویش پیدا کرکے اس دیرینہ اور انسانی مسئلہ کے مستقل حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کرنے کے لیے مجبور نہیں کرپارہی ہیں۔ پولیس کی طرف سے ان کے پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانے اور تشدد کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ اپنا رویہ بدل کر عوامی امنگوں کا احترام کریں، ورنہ وہ عوامی غیض وغضب کے شکار ہوں گے جس کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ وادی کے کچھ علاقوں سے مسلسل اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ مشترکہ قائدین کی طرف سے ہڑتال میں دی ہوئی ڈھیل کے دوران بھی لوگوں کو نقل وحمل کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور بیماروں خاص کر حاملہ خواتین کو کپڑے اٹھانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ گیلانی نے پھر ایک بار جوانوں سے درخواست کی ایسی غیر اخلاقی اور ناشائستہ حرکتوں سے اللہ اور رسولؓ ناراض ہوکر ہم نصرت اِلہی سے محروم ہوجائیں گے جس سے موجودہ پرامن جدوجہد پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اپنی بے مثال قربانیوں اور بہتر حکمت عملی کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکتے ۔

Scroll To Top