مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کے بعد بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہدا کی تعداد64 ہو گئی

KAshmir

سری نگر(یو این پی)مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کے بعد بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہدا کی تعداد64 ہو گئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کی زد میں ہے اس دوران ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے دوران شہری ہلاکتوں اور کرفیووبندشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے تازہ واقعہ میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ میں فاروق احمد کوچھے نامی ایک نوجوان ہلاک جبکہ ایک شدید طور پر زخمی ہوا۔دوران شب ہی نواب بازار سرینگر میں ایک اور نوجوان کو فورسز نے پیلٹ فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ اس طرح موجودہ عوامی ایجی ٹیشن میں مرنے والوں کی تعداد64 تک پہنچ گئی ہے۔ابھی تک 4000سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ قریب 60کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیرکے مختلف مقامات پر150افراد زخمی ہوئے جن میں سب سے زیادہ کولگام کے دمحال ہانجی پورہ میں مضروب ہوئے جہاں ایک درجن موٹرسائیکلوں کو نذر آتش بھی کیا گیا۔اس دوران وادی کے شمال و جنوب میں جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔سرینگر میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب فورسز نے پیلٹ گن کا استعمال کر کے چھتہ بل کے رہنے والے22سالہ نوجوان کو گورئمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے نزدیک جاں بحق کردی ۔اس دوران ریاض احمدکی میت جب علاقے میں پہنچائی گئی توعلاقے میں شدید مظاہرے بھی پھوٹ پڑے اور لوگوں نے کرفیو توڑ کر اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی جس دوران نوجوانوں نے مشتعل ہوکر فورسز پر پتھراؤ بھی کیا ،جبکہ فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شدید ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ۔یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں متعدد افراد زخمی ہو ئے ۔ تدفین میں شرکت کرنے والے جونہی واپس جلوس کی صورت میں لوٹ رہے تھے ،تو فورسز نے صفاکدل کے نزدیک ان کا راستہ روکا اور شدید ٹیر گیس شلنگ کے علاوہ پیلٹ گن کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے مرچی گیس کا بھی استعمال کیا گیا ۔ اس دوران صفاکدل ،سکہ ڈافر اور اسکے گرد ونواح میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور نوجوانوں اور فورسز کے درمیان مسلسل جھڑپیں جاری تھیں۔ شہر کے چھتہ بل علاقے میں کرفیو کے باوجود رات دیر تک احتجاجی نوجوانوں اور فورسز و پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران احتجاجیوں نے سنگبازی کی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ شام کو نوہٹہ سے چھتہ ل تک ایک احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا گیا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی کی گئی۔ اگر چہ کئی جگہوں پر مذکورہ جلوس کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ چھتہ بل پہنچنے میں کامیاب ہوا جہاں پر جان بحق نوجوان کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا۔سرینگر،بارہمولہ شاہرہ پر واقعہ نصف درجن علاقوں جن میں پارمپورہ منڈی،عمر آباد،ملرو،لاوئے پورہ اور نارہ بل میں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جم کر جھڑپیں ہوئی جس میں طرفین نے سنگبازی و جوابی سنگبازی کی۔معلوم ہوا ہے کہ جب سنگبازی انتہا کو پہنچی تو احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز اور پولیس نے ٹیر گیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی ایک نوجوان زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے بے پناہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کا دم گھٹ گیا اور چھوٹے بچوں مریضوں اور بزرگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔راولپورہ سے صنعت نگر اور غوری پورہ صنعت نگر میں بھی احتجاجی مظاہرے برآمد ہوئے جس کے دوران مرد و زن اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔لوگوں نے سڑکوں اور گلی کوچوں کو بھی بند کیا تھا تاہم پولیس اور فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے مرچی گیس کا استعمال کیا ۔ پادشاہی باغ اور نوگام میں بھی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے جبکہ مہجور نگر کے لوگوں نے فورسز و پولیس اہلکاروں پر گھروں کے شیشے توڑنے کا الزام عائد کیا۔شہر میں جگہ جگہ شبانہ احتجاجی مظاہروں اور مساجد میں ترانوں کی گونج سنائی دی۔ادھرآلسٹینگ،شوہامہ،فاق،باکورہ،بیہمامہ کے لوگوں نے فورسز اور پولیس کی طرف سے توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا جس کے دوران انہوں نے ناگہ بل کا رخ کیا تاہم فورسز نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد سنگ اندازی ہوئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ گاندربل کے دیگر حساس علاقوں میں بندشوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران ہڑٹال بھی جاری ہے۔بڈگام کے متعدد علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔باغات کنی پورہ میں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جبکہ نوہار چرار شریف میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔نمائندے کے مطابق سر سیار چاڈورہ اور آڈنیہ ماگام میں احتجاجی مظاہروں کے بعد خشت باری اور تیر گیس شلنگ ہوئی تاہم اس دوران کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی بھی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔بیروہ میں بھی سنگبازی کے واقعات پیش آئے۔بھارتی فوج نے سڑکوں اور بینروں پر تحریر کی نمائش بندی بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Scroll To Top