پندرہ جولائی ترکی میں فوج کی ناکام بغاوت جمہوریت کی فتح ہے ٗصدر مملکت ممنون حسین

nawaz and Mamnoon

اسلام آباد(یوا ین پی)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ترکی کیساتھ بردرانہ تعلقات کی وجہ مذہب ٗ تاریخ اور مشترکہ روایات ہیں ٗپندرہ جولائی کی ناکام بغاوت جمہوریت کی فتح ہے۔ صدر مملکت نے یہ بات ترک وزیر خارجہ میوت چاوش اوگلو سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران کہی۔ صدر مملکت نے وفد سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے ترکی کے صدر طیب اوردگان اور جمہوریت سے ہمدردی کا اظہار کیااور فوجی بغاوت کی بھر پور مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ ترک عوام جس جوش و جذبہ کے ساتھ جمہوریت کی دفاع کیلئے باہر نکلی اس پر پاکستانی عوام کو اپنے ترکش بھائیوں پر فخر ہے۔ صدر مملکت نے موجودہ ناکام بغاوت اور اتاترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ترکی اور پاکستان ہمیشہ مشکل گھڑی میں اندرونی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں جس میں سائپرس اور جموں و کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے معاملات شامل ہیں۔ ترکی نے جموں وکشمیر کے معاملے پر ہمیشہ پاکستان کی تائید کی۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے پر زور دیا۔ ترک وزیر خارجہ میوت چاوش اوگلو نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام نے موجودہ ناکام بغاوت پر جس طرح ترکش حکومت اور صدر کا ساتھ دیا ہے اس کے لیے وہ شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے صدر مملکت کو یقین دلایا کہ ترکی دہشت گردی اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ ترکی کشمیریوں کی حق خود اداریت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ پاکستا ن کو نیوکلیئر سپلائی کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کی بھی ترکی کی مکمل حمایت حاصل رہے گی۔ صددمملکت ممنون حسین نے کہا کہ وہ ترک صدر طیب اوردگان اور وزیر اعظم بن علی یلدرم تک ان کی نیک خواہشات پہنچا دیں۔ صدر مملکت نے مہمان وزیر خارجہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے اہم ثابت ہو گا۔

Scroll To Top