مقبوضہ کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک میں مسلسل 25 ویں روز بھی کرفیو نافذ، مکمل ہڑتال

KAshmir

سری نگر(یو این پی) مقبوضہ کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک میں بدھ کو مسلسل 25 ویں روز بھی کرفیو نافذ رہا اس دوران مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ جنوبی کشمیر میں بڑے بڑے روڑ شو منعقد ہوئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں شہری زخمی ہو گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سری نگر ، گاندربل قاضی گنڈ،کپوارہ ،کلوسہ بانڈی پورہ،نوگام سرینگر ،ٹنگڈار، ٹنگمرگ اوردیگرکچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزکے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں جبکہ اس دوران پتھراؤ کے جواب میں کی گئی ٹیر گیس شلنگ ، پیلٹ فائرنگ او گولہ باری کی زد میں آکر ایک خاتون سمیت ایک درجن سے زیادہ افرادزخمی ہوگئے، جن میں سے تین زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا صدر اسپتال سرینگر میں زیر علاج ایک درمیانہ عمر کے شخص کی موت واقعہ ہوجانے کے بعد عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی کیونکہ بتایا گیا کہ 60سالہ منظور احمد ساکنہ ڈونی وارہ اننت ناگ 11جولائی کو زخمی ہوا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص کے سر میں گہری چوٹ لگی تھی اور 21روز تک صدر اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد صدراسپتال میں دم توڑ بیٹھا 4بیٹیوں کے باپ 60سالہ منظور احمد کی میت آبائی گھر واقع ڈونی وارہ اننت ناگ پہنچائی گئی تو وہاں زبردست کہرام مچ گیا ۔ اس دوران جنوبی اور شمالی کشمیر میں کئی پر تشدد واقعات رونما ہوئے ، جن میں ایک خاتون سمیت تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے ۔ معلوم ہوا کہ قاضی گنڈ اننت ناگ میں پتھراؤ کر رہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نے مین چوک کے نزدیک ٹیر گیس گولوں اور پیلٹ گن کا استعمال کیا ۔ پولیس اور فورسز اہلکار مین چوک قاضی گنڈ کے نزدیک پھینکے گئے پتھر ہٹانے کیلئے آئے اور اس دوران یہاں لوگوں نے سیکورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک مقامی نوجوان عرفان احمد زخمی ہوا جبکہ اس سے پہلے قاضی گنڈ میں ہی ایک اور نوجوان پیلٹ فائر لگنے سے شدید زخمی ہوا اور اس کو صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قاضی گنڈ میں ایک نوجوان کے سر میں ٹیر گیس شل لگا جس کے نتیجے میں اس کو پہلے ٹراما اسپتال قاضی گنڈ پہنچایا گیا لیکن یہاں سے اس کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ مشتاق احمد شاہ کے سر میں گولی لگنے کے علاوہ اسکی گرد ن میں پیلٹ فائر لگئے ہیں اور اسکی حالت صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں نازک بتائی جاتی ہے۔ ٹراما اسپتال قاضی گنڈ کے ذرائع نے بتایا کہ مشتاق احمد شاہ کو نازک حالت میں پہلے یہاں لایا گیا تھا تاہم اسکی حالت کو دیکھ کر ڈاکٹروں نے اسکو صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ علاج و معالجہ کیلئے روانہ کر دیا۔ ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ لیوڈورہ قاضی گنڈ میں سرینگر جموں شاہراہ پر مشتعل مظاہرین اور پولیس وفورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں 3سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے۔ ادھر سرحدی ضلع کپوارہ میں ڈانگر پور ہ ، کلا روس لولاب علاقہ میں احتجاجی جلوس برآمد ہوا ، جس میں شامل مردوزن آزادی کے حق میں اور بھارت کیخلاف نعرے بازی کر رہے تھے ۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ پر امن احتجاج کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ٹیر گیس شلنگ کے علاوہ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 5افراد زخمی ہوئے ۔ لوگوں نے بتایا کہ اس دوران مشتعل افراد نے ایک ایمبولنس گاڑی کو نقصان پہنچایا تاہم اسکے بعد اسی ایمبو لنس گاڑی میں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ مزید برآں یہ معلوم ہو اکہ کلوسہ بانڈی پورہ میں شبانہ چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کر رہے لوگوں اور پولیس و فورسز کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی جس کے بعد مشتعل نوجوانوں کی پتھراؤ کے جواب میں سیکورٹی اہلکاروں نے ٹیر گیس شلنگ کر دی جس کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کر دی ، جس کی زد میں آکر کئی نوجوان زخمی ہوگئے ، جن میں سے ارشاد احمد زرگر ولد غلام نبی ساکنہ چچلورہ زخمی ہوا ، جس کو علاج ومعالجہ کیلئے ماگام اسپتال منتقل کیا گیا ۔

Scroll To Top