ترکی نے مسئلہ کشمیر پر’’ پاکستان‘‘ کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا

teyab urdwan

اسلام آباد (یوا ین پی) پاکستان اور ترکی نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے ٗ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے اور قریبی دوستانہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیا ہے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک وزیر خارجہ میو لود چاوش اوغلو اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی منگل کو دفتر خارجہ میں ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال ٗ ترکی میں حالیہ پیشرفت سمیت دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے ۔یواین پی کے مطابق ترک وزیر خارجہ میو لود چاوش اوغلو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہیں آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر اور مستحکم ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کی ناکامی جمہوریت کی فتح ہے اور بغاوت کو ناکام بنانا ترکی کے عوام کی فتح ہے ٗقومی اسمبلی میں ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف قرارداد پاس کی انہوں نے کہاکہ ترک وزیر خارجہ سے افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی ہے افغانستان میں امن کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات یکساں ہیں دونوں ممالک افغانستان میں پر امن اور پائیدار حل کی حمایت کرتے ہیں ٗدہشتگردی سے نبرد آزما ہونے کیلئے پاکستان ترکی کا ساتھ دیگا ۔انہوں نے کہاکہ ترکی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملو ں پر پاکستان ترکی کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان صدر اردوان کی قیادت میں مضبوط ترکی کی حمایت کرتا ہے پاکستان اور ترکی ملکر دہشتگردی کا مقابلہ اور ترکی و خوشحالی کیلئے ملکر کام کر تے رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں قریبی دوستانہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کر ناہے پاکستان اور ترکی کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر رواں سال دستخط ہو جائینگے ٗ معاہدے سے دونوں ممالک میں تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی نے دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی ۔ترک وزیر خارجہ میو لود چاوش اوغلو نے کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستانی عوام اور حکومت نے بغاوت کچلنے پر ترک حکومت اور عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا انہوں نے کہاکہ پاکستان اورترکی دونوں کو دہشتگردی سے نقصان پہنچا ہے افغانستان میں امن کیلئے چار فریقی گروپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے رابطہ گروپ میں بھی اپنا کر دارادا کررہا ہے انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ صرف بات چیت اور سفارتکاری سے حل ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں بغاوت کی ناکامی کے بعد پاکستان پہلا ملک ہے میں نے جس کا دورہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ گولن سکولوں کی بندش کا معاملہ اٹھایا ہے ٗ بغاوت سے پہلے گولن سکول بند کر نے کی درخواست کی تھی ۔

Scroll To Top