جو شخص جس منصب کا اہل ہو گا اسے وہی دیا جائے گا،بنکوں کو چھوٹے کاروبار کے لئے عوام کو قرضے دینا ہوں گے:فاروق حیدر

Farooq Hedar

مظفرآباد(بیورو رپورٹ)آزاد کشمیر کے نامزدوزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خا ن نے خبر دارکیا ہے کہ آزا د کشمیر میں کرپشن اور سفارش کے ماحول کاخاتمہ کر دیں گے کوئی پرواہ نہیں دس دن بعد ہی نکال دیا جاؤں ،آزاد کشمیر میں قائم بنک آزا د کشمیر سے صرف پیسہ اکٹھے کرنے کی مشین ہیں یہاں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔ میرٹ پر کام ہوگا ۔جو شخص جس منصب کا اہل ہو گا اسے اسی مقام پر بیٹھایا جائے گا، اب پتہ چلے گا کہ ہم کتنے طرم خان ہیں۔ اتنے بڑے مینڈیٹ کے ساتھ یہ ایک آزمائش اللہ جس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اس کو اس قابل بھی بناتا ہے۔ پنجاب اور سندھ والوں کو معلوم ہونا چاہے کہ زمینوں کی زرخیزی ہمارے دریاؤں کی مرہون منت ہے۔راجہ فاروق حیدر خان گذشتہ شام مظفرآباد میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھا جہاں سمٹ بنک کے پاکستان کے لئے صدرظہیر اسماعیل ،گروپ ہیڈ علی پسنانی گروپ ہیڈ عمران احمد سمیت سمٹ بنک کے ایریا منیجر اسلام آباد تیمور چیمہ اورمظفرآباد میں سمٹ بنک کے منیجر وارث علی گیلانی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدرخان کاکہنا تھا کہ نجی بنک آزاد کشمیر میں قرضہ نہیں دیتے صرف ملازمیں کو فلیکسی لون دینے سے معشیت میں کوئی بہتری نہیں آسکتی آزاد کشمیر کے لوگ قابل اعتماد ہیں بنکوں کو چھوٹے کاروبار کے کئے قرضہ دینا ہوں گے تجارت شروع ہوگی تو معیشت چلے گی آزاد کشمیر میں سیاحت ہائیڈور پاور کے شعبوں میں سرمایا کاری کے مواقع ہیں آزاد کشمیر میں تیزی سے روبہ زوال جنگلات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ والوں کو معلوم ہونا چاہے کہ زمینوں کی زرخیزی ہمارے دریاؤں کی مرہون منت ہے اگر جنگلات ختم ہو گئے تو دریاؤوں کے کیچمنٹ ایریاز تباہ ہو جائیں گے تو پانی کہا ں سے آئے گا اس لئے ضرری ہیکہ ہم زیادہ سے زیادہ پن بجلی پیدا کر کے جنگلات پر دباؤ کو ختم کریں۔ دیودار کا درخت اتنا کم قیمت نہیں کہ ہم اسے چولہے میں جلا دیں۔ انہوں نے بنکو ں کو کہا کہ وہ ایک کنسورشیم بنا کر آزاد کشمیر سے جمع کیا گیا روپیہ آزاد کشمیر میں سرمایا کاری پر خرچ کریں تاکہ تجارتی سرگرمیاں شروع ہوں بنک اس میں حصہ ڈالیں اگر صرف زراعت پر ہی خرچ کیا جائے تو ہر سال ہمارے کسان لاکھوں روپے کی پھول فروخت کر سکتے ہیں ہالینڈ کی معیشت صرف پھولوں کی فروخت پر کھڑی ہے اور آزاد کشمیر کو بھی قدرت نے گلیڈ جیسے قیمتی پھول کاشت کرنے کا موسم عنایت کیا ہے بنک لائیو سٹاک کی بڑھوتی اور سبزیوں کی کاشت پر پیسہ خرچ کریں ہمارے لوگ بنکوں میں جو روپیہ جمع کراتے ہیں اس روپے میں اور پاکستان مین جمع ہونے والے روپے میں کوئی فرق ہم ہاں تو اٹھارہ سو پچاسی میں بھی سرمایا کاری اور پرائیوٹ بنکنک ہوتی تھی جب خواجہ حبیب اللہ اور چیت سنگھ مظفرآباد میں لوگوں کو قرضہ دیتے تھے اور سرمایا کاری بھی کرتے تھے۔

Scroll To Top