7ارب روپے کے منصوبے میں کرپشن، گریٹر واٹر سپلائی میرپور کے دو اعلیٰ آفیسران شجاعت جلیل،اورنگزیب گرفتار

arrest

میرپور/مظفرآباد(کے این آئی)آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو نے ایک کارروائی کے دوران شجاعت جلیل احمد چیف انجینئر / پراجیکٹ ڈائریکٹر گریٹر واٹر اینڈ سیورج سپلائی سکیم میرپور (PMU) اور اورنگزیب پراجیکٹ ڈائریکٹر (وقت) ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب کو گذشتہ روز گرفتار کر لیا۔ دونوں آفیسران کو 7 ارب روپے کے میگا پراجیکٹ میں ہونے والی کرپشن، بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہونے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 2006 ؁ء میں شروع ہونے والا یہ میگا پراجیکٹ تاحال پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا جس کی بڑی وجہ محکمہ کے عہدیداران کی غفلت اور اختیارات کا ناجائز استعمال اور کرپشن ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب جو کہ سال 2011 ؁ء میں کرنٹ چارج کے طور پر بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر کام کر رہے تھے اور متعلقہ فرم کیساتھ ملی بھگت کے ذریعے کام کو بلا جوازرکوادیا اور بالا اتھارٹی سے بدوں منظوری ایک ماہ کے بعد دوبارہ خو دہی کام شروع کر وادیا آفیسر موصوف کے اس اقدام کی وجہ سے متعلقہ فرم نے 05 کروڑ سے زائد کلیم بنایا اور کلیم کا تصفیہ نہ ہونے کی بناء پر 8% کے حساب سے روازنہ کی بنیاد پر سرچارج لگ رہا ہے۔ جوکہ اس وقت تک 11 کروڑ کے لگ بھگ ہو چکا ہے جس سے قومی خزانہ کو روزانہ کی بنیا دپر نقصان ہورہا ہے۔ ما بعد انجینئر شجاعت جلیل کو متذکرہ منصوبہ کا پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا۔ احتساب بیورو میں زیرکار شکایت کے حوالے سے گذشتہ دو سالوں سے متذکرہ پراجیکٹ کے حوالے سے احتساب بیورو کی ٹیکنیکل ٹیم پراجیکٹ ڈائریکٹر کو متذکرہ پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے متعدد بار تحریک کی گئی جس کے نتیجہ میں پراجیکٹ ڈائریکٹر شجاع جلیل نے تحریری طور پر احتسا ب بیورو کو آگاہ کیا کہ وہ دسمبر 2015 تک ہر صورت میں متذکرہ پراجیکٹ کی تکمیل کو یقینی بنائے گا۔ نیز پراجیکٹ ڈائریکٹر نے یہ بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ پراجیکٹ کے بروقت مکمل نہ ہونے کا مکمل ذمہ دار وہ خود ہوگا لیکن اس کے باوجود جون 2016 ؁ء تک بھی پراجیکٹ مکمل نہیں ہوسکا۔اسی دوران متعلقہ فرم اور PMU کے ذمہ داران کے درمیان ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف Stak holders کی ذمہ داریون کا تعین کیا گیا س میٹنگ کی روداد کے مطابق پراجیکٹ ڈائریکٹر PMU کی ذمہ داری میں یہ بات شامل تھی کہ وہ متعلقہ فرم کو Drawings اور نےLayout مہیا کرے گا تاکہ متعلقہ فرم نامکمل کام کی تکمیل کا شیڈول جاری کرسکے۔ تاہم پراجیکٹ ڈائریکٹر نے غفلت اور لاپرواہی کا مطاہرہ کرتے ہوئے تین ماہ گزرنے کے باوجود متعلقہ فرم کو Drawings اور layout مہیا نہ کیا جس کی وجہ سے متذکرہ پراجیکٹ کی تکمیل جون 2016 تک بھی ناممکن ہو گئی ہے جس کی وجہ سے خزانہ سرکار کو کروڑون روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور تین ارب سے شروع ہونے والایہ پراجیکٹ 7 ارب میں بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ جائے گا۔ احتساب بیورو نے دونوں آفیسران کو گرفتار کرتے ہوئے سیف ہاؤس تھوری منتقل کر دیا ہے اور آج احتساب عدالت میں ریمانڈ کیلئے پیش کیا جائے گا تاکہ مزید تفتیش عمل میں لائی جاسکے۔ اس میگا سکینڈل میں ملوث دیگر لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
Scroll To Top