حالیہ بارشوں سے 260 افراد جاں بحق اور 220 سے زائد زخمی ہوئے ، اڑھائی ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے

Flood

اسلام آباد (یوا ین پی) وفاقی وزیر زاہد حامد نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 11 اپریل تک بارشوں سے 260 افراد جاں بحق اور 220 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، اڑھائی ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے،محکمہ موسمیات نے مارچ میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے کی پیشن گوئی کی تھی، تمام صوبائی محکموں کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سید نوید قمر کے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے 7 موسمیاتی پیشن گوئیاں جاری کی تھیں۔ تمام صوبائی محکموں کو اس سے آگاہ کیا گیا تھا کہ مارچ میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔ 11 مارچ سے اب تک 260 افراد جاں بحق ہوئے، 220 افراد زخمی ہوئے جبکہ اڑھائی ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے، حکومت نے 2657 ٹینٹ تقسیم کئے جبکہ 480 ٹن گندم کا آٹا اور 480 ٹن دودھ سمیت دیگر امدادی سامان بھجوایا گیا صوبائی حکومت نے بھی امدادی سامان فراہم کیا ہے۔ آزاد کشمیر، فاٹا اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز کے زلزلہ کے نتیجے میں بھی پانچ افرا دخیبرپختونخوا اور ایک آدمی گلگت بلتستان میں جاں بحق ہوا۔ توجہ مبذول نوٹس پر سید نوید قمر کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاک فوج مل کر شاہراہیں کھولنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے صوبائی حکومت نے جس زر اعانت کا اعلان کیا تھا اس میں 50 فیصد حصہ وفاقی حکومت نے دیا ہے۔ موجودہ حالات کے لئے ابھی تک کوئی پیکیج متعارف نہیں کرایا گیا
Scroll To Top