آزاد کشمیر میں 20 سال قیام کے بعد مقبوضہ کشمیر واپس جانے والا نو جوان اہلیہ سمیت رہا

dua

سری نگر(یوا ین پی) آزاد کشمیر میں 20 سال قیام کے بعد مقبوضہ کشمیر واپس جانے والا نو جوان اہلیہ سمیت سات ماہ بھارتی جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوگیا ہے ۔گزریال سے تعلق رکھنے والا پیر رحمت اللہ شاہ ولد پیر بہاوالدین //7ماہ تک بہار جیل میں مقید رہنے کے بعد رہائی پر اپنے آبائی گھر گزریال لوٹ آیا ۔گزریال سے تعلق رکھنے والا پیر رحمت اللہ شاہ ولد پیر بہاوالدین 90کی دہائی میں سر حد پار چلا گیا اور وہاں اپنے رشتہ داروں کے یہاں اس نے رہائش اختیار کی اور پھر وہاں ہی شادی کرنے کے بعد کاروبار کے ساتھ منسلک ہو گیا ۔سال 2010میں سرحد پار چلے گئے نوجوانوں کو واپس لانے کیلئے عمر عبد اللہ کی سر براہی والی سابق حکومت نے فیصلہ لیا اور پھر اس فیصلے کو با زآباد کاری کا نام دیا گیا ۔ آج تک سینکڑو ں کشمیری نوجوان نیپال کے راستے اپنے اہل عیال کے ہمرہ گھر واپس لو ٹ آئے ہیں ۔پیر رحمت اللہ کے لواحقین نے بھی اس کی گھر واپسی کیلئے کا غذات تیار کئے ۔14اکتوبر2015کورحمت اللہ اپنی پاکستانی بیو ی کے ہمراہ نیپال کے راستے سے گھر واپس آرہا تھا تو اس دوران بہار پولیس نے دو نو ں میا ں بیو ں کو حراست میں لے کر غیر ملکی قرار دیکر ان کے خلاف کیس درج کیا اور بعد میں دو نو ں کو موتی ہار ی میں بند رکھا ۔25سال کے بعد جس ما ں کو اپنے لخت جگر سے ملا قات کر نے کی سخت تمنا تھی وہ بیٹے کی جدائی میں دسمبر2015سے اس کے انتظار میں انتقال کر گئی ۔جہا ں لواحقین نے اپنے لخت جگر کو موتی ہار ی جیل سے باہر آنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کئے وہیں ۔مارچ 2016کو جب بہار کی عدالت نے رحمت اللہ کے حق میں سزا کی تاریخ متعین بھی کی لیکن اس کے بھائیوں پیر غلام محی الدین اور پیر محمد صادق نے کپوارہ عدالت کے ایک سینئر وکیل ایڈوکیٹ غلام محمد شاہ کی نو ٹس میں معاملہ لایا اور اس کو تمام دستا ویزات بھی پیش کئے جس کے بعد وکیل موصوف نے بہار کی عدالت میں رحمت اللہ اور اس کی بیوی کی بے گنا ہی ثابت کر نے کے لئے وہا ں کے سرکاری وکیل سے بحث کی اور با لا آخر عدالت مجبور ہوگئی اور 4روز قبل رحمت اللہ اور اس کی پاکستانی بیوی کو رہا کر دیا ۔ اتوار کو جو ں ہی رحمت اللہ اپنی پاکستانی اہلیہ کوساتھ لیکر آبائی گا ں پہنچ گیا تو وہا ں لوگ جن میں مرد و زن شامل تھے، اپنے گھرو ں سے باہر آئے اور جشن منایا جبکہ خوشی کے مارے وہا ں ڈھول بھی بجا ئے گئے ۔یہ کتنا کرب ناک منظر تھا کہ ادھر خوشی کے مارے رحمت اللہ کے گھر میں جشن تھا اور ادھر رحمت اللہ گا ڑی سے اترا اور سیدھا اپنی ما ں کی قبر پر گیا جو گزشتہ سال دسمبر میں بیٹے کی جدائی میں انتقال کر گئی۔ رحمت اللہ اور اس کی اہلیہ کو ایک جلوس کی صورت میں اپنے گھر لیا گیا ۔یہ منظر ایسا تھا کہ نایسا لگ رہا تھا کہ رحمت اللہ پیر کو ہی اپنی پاکستانی دلہن کو وہا ں سے لے کر آیا ہو۔ ایک طرف ڈھول کی تاپ پر رقص ہورہا تھا تو دوسری طرف لوگو ں میں جوش وخروش کے مناظر تھے ۔ رحمت اللہ کے بھتیجے نے بتا یا کہ انہو ں نے بہار عدالت کے جج کوتمام کا پیاں پیش کیں جسمیں ان کے بے گنا ہ ہونے کی خبریں شائع ہوئی تھیں ۔انہو ں نے بتا یا کہ رحمت اللہ اور اس کی بیوی کو بہار کے موتی ہار جیل سے آزاد کرانے کے لئے کشمیر عظمی نے اہم رول ادا کیا ۔
Scroll To Top