بھمبر میں سیاسی شورشوں کا شور تحریر :غلام قادر چوہدری

Ghulam Qadir ch

’’وہ کچھ کر نہیں سکتا، بڑے فیصلوں میں آزاد نہیں، بڑے کاموں میں محتاج ہے،ہارا ہوا ہے مگر عوام کی فکر میں رہتا ہے، مردِ مومن دودھ میں دُھلا پویتر اور حق بات کہنے والا جہاں کا اچھا شخص ہے اگر جیت جاتا تو پہلے کی طرح نہ کرتا ، اب کی بار اُسے موقع ملنا چاہیے‘‘ میری مراد سابق سپیکر اسمبلی چوہدری انوار الحق کی ہے جن کے چاہنے والے مختلف مباحثوں اور محفلوں میں ایسے کلمات کا ورد کرتے دکھائی دیتے ہیں انتہائی معذرت کے ساتھ میں کہتا ہوں وہ یقیناًکر سکتا ہے بالکل کر سکتا ہے اپنی انا کی تشفی کے لیے استانیوں کے تبادلے، انتظامیہ کے تبادلے، برادریوں سے اتحاد و معائدے، اور حکومت وقت سے انوکھے مطالبے ،بس یہی کچھ کر سکتا ہے۔ جس طرح مختلف خبریں گردش میں ہیں کہ موصوف نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ کے لیے حکومت سے اکھاڑ پچھاڑ کے مطالبے کیے ہیں لیکن ان مطالبوں میں حلقہ بھمبر کی ترقی یا عوامی فلاح کا کوئی مطالبہ نہیں ، بے روزگاروں کی فوج کے خاتمے کا کوئی مطالبہ نہیں، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمتی کا کوئی مطالبہ نہیں، کم ولٹیج کے بدلے بھاری برکم بلوں کے خاتمے کا کوئی مطالبہ نہیں۔ موصوف گذشتہ 10سالہ دور سیاست میں کسی پلیٹ فارم پر اپنے حلقے کی فلاح کا کوئی بول تک نہیں بو ل پائے اسی روش اور رویے کی بہترین مثال کچھ اس طرح سے ہے کہ جب سابق سپیکر اسمبلی کے آبائی گاؤں چہلہ کو دیکھتا ہوں جہاں سے میرا آئے روز گزر ہوتا ہے تو سیاسی خاندان سے وابستگی رکھنے والے شکستہ حال چہرے اپنی ہی بے بسی پہ رو رہے ہوتے ہیں بڑی سیاست کے چھوٹے جمہور میں رہنے والے لوگ سات سالوں سے ٹوٹے ہوئے کازوے کی مرمتی کے منتظر ہیں مگر حکومتی پارٹی کے بڑے رہنما اپنے ہی گاؤں کو بھول گئے ہیں ننگے پاؤں ٹوٹے ہوئے کازوے کو عبور کرنے والی خواتین و مرد ہر روز اذیت کا شکار ہوتے ہیں یونین کو نسل پنجیڑی کا سب سے بد نصیب گاؤں چہلہ جہاں کھانسی کی دوا لینے کے لیے جاتلاں یا شکریلہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے علاج کی بنیادی سہولت سے محروم بڑے بوڑھے غربت کی چکی میں پسے ہوئے لوگ دھکے کھاتے صبح سے شام تک اپنے علاج کے لیے لمبی مسافتوں میں مارے مارے پھرتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے چہلہ پر پیپلزپارٹی کی حکومت کی ایک پرچھائی تک نہیں پڑی۔جب میں یان حالات کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں حکومت وقت کے اس اہم سپاہی کو اس محاذ کی فکر کیوں نہیں آتی ؟جہاں بنیادی سہولیات کے لیے لڑنا لازم ہوچکا ہے، راہ و رستے کی ضرورت کے لیے لڑنا لازم ہو چکا ہے آج بھی یہاں کے لوگ نئے میٹر کے حصول کے لیے محکمہ برقیات کو ہزاروں روپے رشوت دینے پر مجبور ہیں اپنی زمینوں پر لوگ قبضہ مافیا کی زد میں ہیں مگر حلقہ کے حقوق کی جنگ لڑنے والے بڑے سیاست دان کو اپنے ہی گاؤں کے لوگوں کی فکر نہیں منفی سیاست کا جنون کچھ یوں ہے کہ حلقہ کو ماچس سے آگ لگانے کے درپے ہے۔ اگر بھمبر کی سیاست میں بجلی پولوں کی مزح پر مبنی قسم کی جنگ کو موضوعِ بحث لاؤں تو ریاستی سیاست کرنے والا شخص جو کشمیر کو روشن دیکھنا چاہتا ہے وہ چار سالوں سے محروم عوام کو پانچویں اور آخری حکومتی سال یعنی الیکشن کے قریب بھی ملنے والی روشنیوں کو ان سے چھیننا چاہتا ہے ریاست میں عوامی نمائندے بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے کام کرنے کی کوشش میں ہیں اور سابق سپیکر اسمبلی موصوف حلقہ ایم ایل اے کی جانب سے عوام کو بجلی پول دینے پر نیا جھگڑا کر رہے ہیں اور میڈیا میں حلقہ کے ساتھ ساتھ خود بھی تماشا بن رہے ہیں اگر 4سال بعد دونوں لیڈران کے پاس عوامِ حلقہ کو دینے کے لیے کچھ ہے تو فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کام کروانے میں دونوں کو آگے بڑھنا چاہیے انتقامی رویوں نے چوہدری انوار الحق کی سیاسی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا دیا ہے اور حالیہ صورت حال میں موصوف خود کش سیاست کر رہے ہیں جسکا ان کو نقصان ہی نقصان ہوگا یونین کونسل کلری کے گاؤں گورانکہ میں سابق سپیکر اسمبلی کی جانب سے تقریباً 30بجلی پول آئے اور لوگوں میں گیارویں کے چاولوں کی طرح بانٹنے جا رہے ہیں ووٹوں کا وعدہ بھی لیا جارہاہے لیکن عوام اس پر بھی خوش ہے کیوں کہ ایک بجلی پول بھی ریاست میں انسانی جان سے زیادہ قیمتی اور نایاب ہو چکا ہے اگر اصول کی بات کی جائے تو کیاانتخابی مہم کے لیے اس طرح سے ریاستی وسائل کا استعمال درست طریقہ کارہے ؟؟ ہر گز نہیں۔ 4سال وزیر اعظم آزاد کشمیر سے چوہدری انوار الحق کی ناراضگی کے قصے چرچا کرتے رہے ناراضگی یہ تھی کہ میر ے حلقے میں کوئی ترقیاتی اعلان نہ کیا جائے ۔ واہ رے سیاست۔۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری عشرہ میں صلح کی تان ٹوٹی بھی تو محض انتقامی تبادلوں پر ۔۔حلقہ ایم ایل اے کو حالیہ 5سالوں میں حلقہ کی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا عوام نے بھی اس بات کی تائید کی مگر جب حلقہ ایم ایل اے چوہدری طار ق فاروق نے حلقہ کی تعمیر و ترقی کے لیے وفاق سے بڑے بڑے منصوبے مانگے اور منصوبوں کے افتتاح کا سلسلہ شروع ہوا تو اسے دھاندلی ، سیاسی رشوت اور وفاق کی مداخلت سے منصوب کیا جانے لگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حلقہ کو بڑے منصوبوں کا تحفہ ملنا عوام کی خوش قسمتی ہے۔ گمراہ کن افراد سے پوچھتا ہوں کہ بھمبر کے لیے ترقیاتی کاموں کے مطالبے کو کیا ہم عوام کے ضمیر کو خریدنے سے منسوب کریں؟ جبی گرڈ اسٹیشن کو کیا ہم سیاسی رشوت کہیں؟ زرعی یونیورسٹی کے مطالبے کو کیا وفاق کی یلغار کہا جائے؟؟ اورکیاپاسپورٹ آفس بھمبر کے افتتاح کو پرپول ریگینگ تصور کیا جائے ؟؟ جبکہ اس کے برعکس ان سب چیزوں کی مخالفت کرنے والے عوامی نمائندے کو بہترین لیڈر شپ قرار دیا جائے اعلیٰ قائدانہ صلاحیتُوں کا پیکر کہا جائے؟؟اگر ایسا ہے تو پھر مظلوم ووٹر کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے، بولنے والوں کے لبوں کو سی دیا جائے،زبان کو کاٹ دیا جائے، مردوں کے کانوں میں بالیاں ڈالنے کا رواج کیا جائے اور عوام الناس کو مظلومیت کا ڈنکا بجانے کے لیے، ’’حلقہ بھمبر میں سیاسی شورشوں کا شور ‘‘مچانے کے لیے ایک عدد صرف ایک عدد ڈھول دیا جائے ۔۔
Scroll To Top