دو بچوں سمیت امام مسجد کا قتل، مقدمہ درج، مظاہرین کا دھرنا ختم

اسلام آباد: وفاقی دارلحکومت کے علاقے بھارہ کہو میں امام مسجد، ان کے بیٹے اور شاگرد کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات اسلام آباد میں امام مسجد مفتی اکرام کو ان کے 13 سالہ بیٹے سمیع الرحمٰن اور ایک شاگرد حبیب اللہ کے ساتھ فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، جس پر آج مظاہرین نے مری روڈ پر نکل کر ٹریفک بلاک کر دیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے، کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کر کے مری روڈ ٹریفک کے لیے کھول دیا۔پولیس نے امام مسجد مفتی اکرام اور دو بچوں کے قتل پر ایف آئی آر درج کر لی، تہرے قتل کا مقدمہ مقتول امام مسجد مفتی اکرام الرحمٰن کے بھائی قاری کرامت الرحمٰن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس روڈ گلی نمبر دس بھارہ کہو میں واقع جامع مسجد اکبر کے پاس نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی۔

گزشتہ رات ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کی سربراہی میں 2 تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی تھیں، ان ٹیموں کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ ڈی آئی جی آپریشنز کو پیش کرنی تھی۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کی نشان دہی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

Scroll To Top