کے ٹو: محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ممکنہ حادثہ پیش آیا ہو گا اور ان کی تلاش کے مشن میں کیا ہو رہا ہے؟

دنیا میں کسی بھی جگہ کے سفر پر نکلنے سے پہلے آپ خود کو پیش آنے والی کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں اپنے بچاؤ کا بندوبست کر کے ہی نکلتے ہیں۔ اور خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آ جانے کی صورت میں آپ کے عزیز و اقارب یا دوست رشتہ دار دوڑے دوڑے آپ کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ کو پیش آنے والے اس حادثے کا مقام ’موت کی وادی‘ قرار دیے جانے والے پہاڑوں پر 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہو تو سوچیے کیا ہو گا؟

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہوا اور سنیچر سے اب تک ان کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

تو ان کوہ پیماؤں کے ساتھ ممکنہ طور پر کیا حادثہ پیش آیا ہو گا؟ پاکستان میں سرچ اور ریسکیو کے حوالے سے کیا پروٹوکول ہیں اور اب تک کیا کیا ہو رہا ہے؟ کون سی ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ سرچ اور ریسکیو کے لیے استعمال کی جا رہی ہے؟ اور اس سارے مشن میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟

مہم جو عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 10 برس سے اس حوالے سے تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران کہتے ہیں کہ اس طرح کے معاملے میں ریسکیو مشن ایک لحاظ سے ’کاسمیٹک‘ یا یہ کہہ لیں کہ انسان سے جتنا ہو سکے وہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جیسا کہ ساجد سد پارہ کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں ہیلیوسنیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھیں واپس لوٹا پڑا، اس وقت دن کے 10 بجے کا وقت تھا اور علی سدپارہ کی ٹیم 8200 میٹر پر یعنی ڈیتھ زون کے سب سے مشکل سیکشن کے انتہائی خطرناک حصے پر موجود تھی۔

Scroll To Top