اسپتال میں لڑکی کی لاش لانے کا واقعہ، ملزم لڑکی کا دوست نکلا، دورانِ تفتیش اہم انکشاف

لاہور کے نجی اسپتال میں لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں گرفتار ملزم نے اہم انکشاف کیا ہے۔لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن  میں گزشتہ روز 2 افراد ایک نجی اسپتال میں لڑکی کی لاش چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے اور پولیس نے اسپتال کی سی سی ٹی وی ویڈیوز کے ذریعے گاڑی کا نمبر ٹریس کر کے اسامہ نامی ملزم کو گرفتار کر لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزم اسامہ کے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے جب کہ قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم اسامہ نے دورانِ تفتیش لڑکی سے دوستی کا اعتراف کیا ہے اور ملزم نے انکشاف کیا کہ اسقاط حمل کے دوران لڑکی کی طبیعت بگڑ گئی تھی جس کی وجہ سے اسے اسپتال لائے مگر وہ دم توڑ چکی تھی۔

دوسری جانب واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید رنگ کی کار میں 2 نوجوان آتے ہیں جن میں سے ایک لڑکی کو اٹھا کر اسپتال کی ایمرجنسی میں لاتا ہے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق ملزم لڑکی کی لاش اسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

لڑکی کی شناخت مریم فاطمہ کےنام سے ہوئی ہے جس کی عمر 17/18 سال ہے اور وہ گجرات کی رہائشی ہے۔مریم کے والد نے بتایا کہ بیٹی لاہور کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھی، جو گھر سے یونیورسٹی فیس کے ایک لاکھ 20 ہزار روپے جمع کرانے کا کہہ کر آئی تھی۔

پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔

Scroll To Top