امریکا: 67 سال میں پہلی مرتبہ خاتون کو سزائے موت دیدی گئی

امریکا میں 67 سال میں پہلی مرتبہ خاتون کو سزائے موت دے دی گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا میں 67 سالوں کے دوران یہ پہلی خاتون مجرم کو وفاقی سطح پر قتل کے کیس میں سزائے موت دی گئی ہے جس میں خاتون کو زہر کا انجیکشن دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکم امتناع ختم کیے جانے کے بعد سزائے موت دی گئی اور انڈیانا کی جیل میں زہر کا انجیکشن لگایا گیا۔

خاتون کے وکیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی مؤکلہ ذہنی معذور ہے اور بچپن میں ان کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کی گئی تھی، وکیل کے دعوے کے بعد امریکا میں اس کیس نے میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔52 سالہ خاتون لیسا مونٹگومرے کو 2004 میں ریاست میسوری میں حاملہ خاتون کو گلہ دباکر قتل کرنے اور بچے کو اغوا کے کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سزائے موت دیے جانے سے قبل ایک خاتون نے لیسا کے چہرے سے فیس ماسک اتارا اور ان سے کوئی آخری الفاظ کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا جس پر لیسا نے نفی میں جواب دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لیسا مونٹگومرے کی سزائے موت کو دو مرتبہ مؤخر کیا گیا جس میں ایک بار کورونا اور دوسری مرتبہ جج کی جانب سے واضح فیصلے تک عملدرآمد روکا گیا۔

Scroll To Top