ملک بھرمیں زینب الرٹ ایپ لانچ کردی گئی

وزارت انسانی حقوق نےملک بھرمیں زینب الرٹ ایپ لانچ کردی ہے۔

زینب الرٹ ایپ کوپاکستان سٹیزن پورٹل کےساتھ بھی منسلک کردیا گیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ ایپ کےذریعے ریپ کے واقعات کی بروقت رپورٹنگ ممکن ہوسکےگی اورالرٹ ایپ جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔وزارت انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ ایپ سے گمشدہ بچوں کی بازیابی میں مدد ملےگی۔

وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب الرٹ ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں بتایا کہ زینب الرٹ ایپ وقت کی ضرورت تھی،ہمارا بچہ الرٹ ایپ پہلے سے موجود ہے اوریہ ایپ پورے پاکستان کے ڈی پی اوز کے ساتھ منسلک ہے۔انھوں نے بتایا کہ بچے کی گمشدگی کے اطلاع ملتے ہی پولیس انتظار نہیں کرے گی کہ کوئی تھانے آئے اور درخواست دے اوراگر پولیس وقت پر ایکشن نہیں لے گی تو جواب دہی ہوگی۔

شیریں مزاری نے بتایا کہ 30 لاکھ پاکستانیوں نے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرلی ہے اوروزیراعظم بھی خود اس ایپ کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ایپ کے بعد اگلے مرحلے میں نیشنل ڈائریکٹری بھی بنائیں گے۔اس موقع پروفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا تھا کہ دنیا میں اس سےزیادہ گھناؤنا جرم ہو ہی نہیں سکتا اوریہ ہمارے ملک میں بار بار ہورہا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ زینب الرٹ قانون کوحرکت میں لانے کیلئےبہت ضروری قدم ہے۔

ایپ کےافتتاح کے موقع پر زینب کے والد امین انصاری بھی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے بچوں کومحفوظ بنانے کیلئے یہ ایپ مددگار ہوگی،یہ انسانی پہلو ہے اورسیاست سے بالاتر ہوکر مل کر کام کریں۔

Scroll To Top