مودی نے ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا

نڈیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا آج باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی ہندو عقیدے کے مطابق اترپردیش کے مقدس شہر ایودھیا پہنچے۔
وہاں وہ مندر کے لیے بھومی پوجن یعنی زمین کی پوجا میں شرکت کی اور مندر کے مقدس ترین مقام پر سنگ بنیاد کے طور پر چاندی کی ایک اینٹ رکھی۔ملک کی میڈیا کی ساری توجہ اس وقت ایودھیا پر مرکوز ہے پل پل کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں اور پورا ملک ایک رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔کانگریس کا مسجد کے تالا کھولنے سے لے کر اس کی انہدام میں بڑا کردار رہا ہے کیونکہ اس نے بروقت مسجد کے انہدام پر سخت کارروائی سے گریز کیا اور اکثریتی طبقے کو ناراض کرنے سے بچتی رہی اور آج وہ اس مقام پر ہے کہ مندر کی حمایت کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ان کے بڑے اور قدآور رہنما بھی اس اقدام کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ان سب کے دوران گذشتہ روز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’بابری مسجد ایک مسجد تھی اور ہمیشہ مسجد رہے گی۔ زمین پر غاصبانہ اور ناجائز قبضہ اور اکثریت کو خوش کرنے کا شرمناک فیصلہ اس کی حیثیت کو بدل نہیں سکتا ہے۔ دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ حالات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔‘اس کے ساتھ انھوں نے اردو زبان میں تحریر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ’آج جبکہ بابری مسجد کے مقام پر ایک مندر کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے دیرینہ مؤقف کو دہرانا ضروری سمجھتا ہے کہ شریعت کی روشنی میں جہاں ایک بار مسجد قائم ہوجاتی ہے وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے۔ لہٰذا بابری مسجد کل بھی مسجد تھی اور آج بھی مسجد ہے اور انشاءللہ آئندہ بھی مسجد ہی رہے گی۔ مسجد میں مورتیاں رکھ دینے سے، پوجا پاٹ شروع کر دینے سے یا ایک لمبے عرصے تک نماز پر پابندی لگا دینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔‘اس میں مزید لکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر کسی مندر کو توڑ کر نہیں کی گئی تھی جس کی توثیق سپریم کورٹ نے بھی کر دی ہے۔
انڈیا کے وزیراعظم کے ایودھیا جانے اور ان کے رام مندر کے بھومی پوجن میں شرکت کرنے پر رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے اسے وزیراعظم کے عہدے کے حلف اور ملک کے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا تھا۔وزیراعظم کے ایودھیا میں پہنچنے سے قبل وہاں سکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں اور دوسری جانب کورونا کی وبا کی وجہ سے اس میں لوگوں کی شرکت محدود رکھی گئی ہے۔ لیکن میڈیا میں اس کی پل پل کی خبریں اور مختلف مقامات پر تقریب کی بڑی سکرین پر براہ راست نشریات سے سب کی شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ رام مند کی جس جگہ تعمیر ہو رہی ہے وہاں انڈیا میں مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدین محمد بابر کے ایک امیر میر باقر نے سولہویں صدی میں ایک مسجد تعمیر کروائی تھی جسے 6 دسمبر 1992 کو ملک بھر سے جمع ہونے والے سخت گیر ہندوؤں کی ایک بڑی بھیڑ نے منہدم کر دیا تھا۔ اس وقت اترپردیش ریاست میں بی جے پی کی کلیان سنگھ کی قیادت میں حکومت قائم تھی اور مرکز میں پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت تھی۔ یہ دیرینہ مسئلہ گذشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حل کر لیا گیا تھا۔ فیصلے کے تحت مسلمانوں کو ایودھیا کے باہر پانچ ایکڑ زمین مسجد کے لیے دی گئی جبکہ جہاں بابری مسجد تھی وہ جگہ ہندو فریق کو دی گئی اور اس کے بعد وہاں مندر کے ٹرسٹ کے قیام کے بعد مندر کی تعمیر کے خاکے اور منصوبے تیار کیے جانے لگے۔
Scroll To Top