آزادجموں وکشمیر کابینہ کا مون سون کےلئے خصوصی پلان کی منظوری

مظفرآباد( بیورورپورٹ)آزادجموں وکشمیر کابینہ کا مون سون کےلئے خصوصی پلان کی منظوری دیتے ہوئے آزادکشمیر کی ٹیکسز وصولی مقررہ ہدف سے زیادہ ہونے پر اطمینان کا اظہار ۔ کابینہ نے سیکرٹریٹ، ضلعی اور دیگر دفاتر کو ایس او پی کے تحت کھولنے کی اجازت دیدی۔ کرونا وبا کے دوران بہترین خدمات انجام دینے والے طبی عملہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کابینہ نے کرونا سے متاثرہ افراد کے ورثا سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ کابینہ کا اجلاس زیر صدارت راجہ محمد فاروق حیدر خان وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر منعقد ہوا وزراءکرام ،سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ،راجہ نثار احمد خان ،چوہدری محمد عزیر ،ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان ،سردار میر اکبر ،فاروق سکندر ،بیرسٹر افتخار گیلانی ،نورین عارف ،چوہدری اسماعیل ،چوہدری شہزاد ،ڈاکٹر مصطفی بشیر ،ناصر حسین ڈار ،یاسین گلشن،چوہدری رخسار ،مسعود خالد ،کرنل وقار نور ،فاروق احمد طاہر ،مشیر حکومت ضیاءسردار ،معاون خصوصی امداد علی طارق کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد خان بنگش ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات (جنرل)،پرنسپل سیکرٹری ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیونے شرکت کی ۔اجلاس میں محکمہ ایس ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مون سون کے خطرے کے پیش نظر آزادکشمیر میں 23ہزار خاندان متاثر ہو سکتے ہیںجن کی عارضی رہائش کا انتظام کیا جائے گا جس کے لیے وسائل حکومت آزادکشمیر اور این ڈی ایم اے مشترکہ طو رپر فراہم کریں گے۔مرکزی و تمام ضلعی سطح پر کنٹرول روم 24گھنٹے کام کر رہا ہے ۔ایمرجنسی آپریشن میں پاک فوج کی مدد لیں گے،بحالی کی کاموں میں تمام محکمہ جات کے ساتھ کوآرڈینیشن کا میکانزم طے کیا گیا ہے اور ہر محکمے نے اپنا اپنا فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے اس کے علاوہ بین الاقوامی امدادی اداروں سے بھی اس ضمن میں رابطہ ہے ۔اجلاس میں سیکرٹری پی ڈی او نے کوہالہ پراجیکٹ ،آزاد پتن پراجیکٹ ،پترینڈ پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے 20فیصد زیادہ ہونے کے باعث درپیش غیر معمولی متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع پلان پر کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی ۔ سیکرٹری پی ڈی او نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2015میں اس پر ابتدائی کام شروع ہوا پبلک پرائیویٹ انویسٹمنٹ بورڈ نے اس کا پراسس شروع کیا،ماحولیاتی این او سی (Coditional)دیا گیا ،جس کے بعد 2016میں منصوبے کی لاگت کی منظوری ہوئی 2017میں لینڈ ایکوزیشن ہوئی ابتدائی طو رپر 13کیومکس پانی تجویز کیا گیا تھا لیکن ماحولیاتی مضمرات کے حوالے سے کوئی خاص ذکر نہ تھا نیلم جہلم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث وزیراعظم آزادکشمیر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ون نکاتی ایجنڈے پر متعدد ملاقاتیں کیں جس پر انہوں نے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ۔آزاد کشمیر کابینہ نے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کی سربراہی میں کابینہ کی سب کمیٹی قائم کی جس کی سفارشات کا بینہ نے منظور کیں اور ماحولیاتی مضمرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے جس کو معاہدے میں شامل کیا گیا ہے کابینہ کے اراکین نے اس حوالے سے آزادکشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے اور معاملے پر کابینہ کو تسلسل کے ساتھ مشاورتی عمل میں شرکت پر وزیراعظم آزادکشمیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ کابینہ نے آزاد کشمیر حکومت بالخصوص وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے عوامی تحفظات خاص کر ماحولیاتی مضمرات کے ازالے کے لیے آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے تجویز کردہ نکات پر من و عن عملدرآمد کروانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور معاملہ بار بار وزیراعظم پاکستان اور متعلقہ اداروں کے نوٹس میں رہا جس پر جھیلوں کی تعمیر ،پانی کے کم از کم بہاﺅ 42کیومکس،واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سمیت روزگار میں مقامی آبادی کو ترجیح دینے کے نکات معاہدے میں شامل کیے گئے۔اجلاس میں وزیراعظم نے لاک ڈاﺅن کے دوران محکمہ صحت ،وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی خان ،محکمہ ایس ڈی ایم اے و وزیر احمد رضا قادری ،وزیر ٹیوٹا و آئی ٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت کا پیش کردہ بجٹ متفقہ منظور ہونے پر اراکین کابینہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے وزراءکرام کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں 4سالوں میں مسلم لیگ ن نے ایک باضابطہ منصوبہ بندی کے تحت اپنی طے شدہ ترجیحات پر منظم انداز میں عملدرآمد جاری رکھا اس سال بقیہ رہ جانے والے نکات پر مکمل عملدرآمد کریں گے کابینہ جوابدہی کا فورم ہے یہاں تمام تر فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں ہم نے خالصتاً عوامی مفاد کو مقدم رکھا اور اس کےلیے اپنی بھرپور جدوجہد کی ۔چین کی جانب سے آزادکشمیر میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو آزادکشمیر کے عوام قدر کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں آزادکشمیر کے عوام ہندوستانی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کی ہر حکومت نے آزادکشمیر کی ہمیشہ مدد کی کوہالہ پراجیکٹ کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کی جناب سے بنائی گئی کمیٹی نے حکومت آزادکشمیر کے تحفظات کو درست گردانتے ہوئے سفارشات تیار کیں جن کی ای سی سی (اقتصادی کوآرڈیشن کونسل )نے منظوری دی اور وفاقی کابینہ نے بھی اس کی انڈوسمنٹ کی جس کے بعد جھیلوں کی تعمیر ،سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس ،ملازمتوں میں مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار کی فراہمی ،ماحو ل اور کمیونٹی کی بہتری کی لیے اقدامات معاہدے کا حصہ ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ان معاہدوں کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تیس سال بعد کوہالہ پراجیکٹ ،آزاد پتن پراجیکٹ سمیت دیگر ہائیڈل کے پراجیکٹس آزادکشمیر حکومت کو منتقل ہو جائیں گے جس سے ریاست معاشی طور پر مزید مستحکم ہو گی ۔پراجیکٹس کی تعمیر کے دوران آزاد حکومت کو اربوں روپے سالانہ ٹیکسز کی مد میں بھی حاصل ہوں گے واٹر یوزز چارجز ایک روپیہ دس پیسہ کرنے سے آزادکشمیر کی آمدن میں بڑا اضافہ متوقع ہے اس پر عملدرآمد کے حوالے سے جلد جزویات طے کر لیں گے ۔

Scroll To Top