میرپور میں مفاد عامہ کیلئے مختص رقبہ نجی ادارہ کو دینے پر اہل علاقہ کا شدید احتجاج

  میرپور(عدالت نیوز)میرپور میں مفاد عامہ کیلئے مختص رقبہ نجی ادارہ کو دینے پر اہل علاقہ کا شدید احتجاج، معززین کے وفد کی کمشنر میرپور کو تحریری درخواست، مفاد عامہ کیلئے مختص رقبہ کی ادارہ ترقیات کو بندربانٹ نہیں کرنے دیں گے، وزیر اعظم آزاد کشمیر، چیف جسٹس سپریم کورٹ، اور چیف سیکرٹری آزادکشمیر سے ادارہ ترقیات میں اختیارات سے تجاوز، سنگین بے ضابطگیوں اورمفاد عامہ کیلئے مختص جگہوں کی بندربانٹ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق میرپور کے سیکٹرF-3 پارٹ 4 کے مکینوں نے سینئر قانون دان چوہدری عبدالرحمن ایڈووکیٹ کی قیادت میں کمشنر میرپور چوہدری محمد رقیب سے ملاقات کی جس میں آمین آہیر، عامر زیشان جرال، ماسٹر محمد حسین، چوہدری محمد حنیف، چوہدری عاشق ایڈوکیٹ، ڈاکٹر حبیب مغل، شاہد حسین، مجیب لودھی، محمد رضوان جرال، چوہدری شوکت علی، چوہدری بشارت، عامر سلیم اعوان، خالد قریشی،راجہ فاضل، چوہدری ظفر، راجہ امتیاز، چوہدری بشیر، باؤ اصغر و دیگر نمائندہ افراد شامل تھے، وفد نے کمشنر میرپور ڈویژن چوہدری محمد رقیب کو درخواست د یتے ہوئے بتایا کہ سیکٹر ایف تھری پارٹ فور میں وہاں کے مکینوں کیلئے مختص مفاد عامہ رقبہ کو ادارہ ترقیات میرپور نے ایک نجی ادارہ کو لیز پر دے دیا ہے جس پر مذکورہ ادارہ نے راتوں رات تعمیراتی کام شروع کیا ہوا ہے، مذکورہ سیکٹرمیرپور کا ہزاروں گھرانوں پر مشتمل گنجان آباد سیکٹر ہے جہاں کے مکینوں کیلئے سیکٹر پلان میں قبرستان، پارک، سکول،مسجد،پارک کیلئے 15 کنال آراضی مختص تھی لیکن لینڈ مافیا کی جانب سے اس رقبہ پر قبضہ اور خلاف قواعد الاٹمنٹ و بندربانٹ ایک عرصہ سے جاری تھی جس پر آزاد کشمیر احتساب بیورو میں درخواست دائر کی گئی جس پر چیئرمین احتساب بیورو (وقت) راجہ سعید اکرم خان جو اس وقت آزادکشمیر عدالت عظمیٰ کے قائمقام چیف جسٹس ہیں نے مفاد عامہ کے رقبہ کو فوری واگزار کرتے ہوئے اس کی چاردیواری کی ہدایت چیئرمین ادارہ ترقیات (وقت) کو دی جس پرادارہ ترقیات نے لینڈ مافیا سے بچنے والی جگہ پر لاکھوں روپے سے چار دیواری کرکے اسے محفوظ بنایا، لیکن چند ایام قبل وہاں پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا جس پر اہل سیکٹر نے معلوم کیا تو بتایا  گیا کہ ادارہ ترقیات میرپور نے اس مفاد عامہ رقبہ میں سے کچھ کنال رقبہ ایک نجی ادارہ کو خلاف ضابطہ لیز پر دے دیا ہے جس کی آڑ میں کام ہو رہا ہے، اہلیان سیکٹر اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں موقع پر جاری کام کو فوری روکا جائے اورلیزمنسوخی کارروائی کے احکامات صادر فرما کر اہلیان سیکٹر کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، کمشنر میرپورڈویژن چوہدری محمد رقیب نے وفد کی درخواست و زبانی روئیداد پر ڈپٹی کمشنر میرپور کو فیکٹ فائنڈنگ کیلئے مکتوب ارسال کیا کہ ادارہ ترقیات میرپور کے سیکٹر پلان/ ماسٹر پلان میں مذکورہ رقبہ کس مقصد کیلئے مختص ہے؟  کیا ادارہ ترقیات نے مذکورہ رقبہ کی لیز دی ہے اور اگر دی ہے تو وہ کیا مروجہ قواعد وقانون کے مطابق ہے؟  کتنا رقبہ لیز پر دیا گیا ہے اور مذکورہ لیز کیلئے وہ جگہ موزوں ہے؟لہذا مذکورہ بالا امور کی نسبت ابتدائی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اندر پانچ ایام ارسال کی جائے اور اس وقت تک موقع پر ہونے والی تعمیرات کے کام کو روکا جائے۔وفد نے کمشنر میرپور کی جانب سے اہلیان سیکٹر کی داد رسی اور مفاد عامہ رقبہ کے تحفظ کیلئے کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر، آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور چیف سیکرٹری آزادکشمیر ڈاکٹر شہزاد خان بنگش سے مطالبہ کیا وہ میرپور میں ادارہ ترقیات کی بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ضابطہ کریں۔

Scroll To Top